عجب بات تو یہ ہے کہ اللہ کے مُقرّب ،اِنسانوں کے قریب رہتے ہیں۔ کہیں اِنسان کا قُرب ہی اللہ کا قُرب نہ ہو! وہ جو صرف اللہ کے قریب تھا اور انسان کے قریب ہونے سے منکر ہُوا، اُس کا حشر تو سب کو معلوم ہی ہے۔

                اللہ سے پیار کرنے والے،اللہ کے کام سے پیار کرتے ہیں۔ خالق کی عزّت کرنے والے،خالق کا ادب کرنے والے ،خالق کے عمل کا احترام کرتے ہیں،اور خالق کا عمل مخلوق کو پیدا فرمانا ہے۔ اللہ کریم نے بڑے وثوق سے اِنسان کو تخلیق فرمایا۔ اِنسان کو” احسنِ تقویم“ کہا گیا۔  اللہ جب کسی کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرماتا ہے تو اُسے مخلوق کی خدمت اور مخلوق سے محبّت کا راستہ عنایت فرماتا ہے۔

                اللہ نے اپنے سب سے پیارے اِنسانؐ ،اپنے محبوب اِنسانؐ کو سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ اللہ اور اُس کے فرشتے نبیؐ پر دُرود بھیجتے ہیں اور حضورؐ اللہ سے محبّت فرماتے ہیں اور آپؐ مخلوق کے لیے باعثِ رحمت ہیں۔ اللہ کے تقرّب کی راہ مخلوق کی خدمت اور محبّت کی راہ ہے۔ مخلوق کو نا پسند کرنے والا کبھی خالق کا مُقرّب نہیں ہو سکتا۔ مخلوق کو ڈرانے والے،مخلوق پر حکومت کرنے کی تمنّا کرنے والے ،خالق کے باغی ہیں۔ مخلوق کے لیے رحمتِ مجسّم،خالق کے لیے،خالق کی نگاہ میں ،خیر البشرؐ ہیں۔

                اللہ کے تقرّب کا ثبوت مخلوق سے محبّت میں پنہاں ہے۔ حضورؐکی تمام زندگی مخلوق سے محبّت کی زندگی ہے۔ آپؐ نے جانوروں سے،پرندوں سے،انسانوں سے،غرض کہ اللہ کریم کی پیدا کی ہوئی ہر ذی جان و بے جان شے سے محبّت فرمائی۔ آپؐ کا دِل یادِ الٰہی سے معمور ہے اور آپؐ کا عمل خدمت ِخلق کا دستور ہے۔ فنکار سے محبّت دراصل اُس کے فن سے محبّت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ سے محبّت کرنے والا، اللہ کی مخلوق سے محبّت نہ کرے۔ دراصل محبّت کرنے والا ہی خدمت کرنے والا ہے۔

                خالق نے اپنی ذات کو مخفی رکھا ہے اور صفات کو آشکار فرمایا ہے۔ ذات سے محبّت ہو تو  صفات کا احترام لازم ہے۔مُقرّبینِ حق ہمیشہ اِنسانوں کی خدمت کرتے رہے، اُنہیں صداقت کی راہ دکھاتے رہے، اُن کی مشکلات کو آسان فرماتے رہے اور اُن کے ظاہر و باطن کی خدمت کرتے رہے۔ خدمت  مخلوق کی اور تقرّب خالق کا—  یہ راز ہر مُقرّب پر عیاں ہوا۔ عبادت بھی تقرّبِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اگر عبادت ہی تقرّب کا ذریعہ ہوتی تو اِنسان پر زندگی کے دیگر فرائض نہ عائد کیے جاتے۔

Pages: 1 2 3 4