اللہ کے مُقرّب اِس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ کافر کو دین ِ حق کی دعوت اِس لیے دی جائے کہ اللہ کی رضا ہے،بس اِسی حد تک۔ تبلیغ کو اپنی ذاتی اَنا کا مسئلہ نہ بننے دیا جائے۔ اللہ کے نام کی دعوت بھی دو، اور اللہ کی منشا کے مطابق اُسے زندہ رہنے کا حق بھی دو۔

                تقرّبِ حق کی منزل بڑی کٹھن ہے۔ اللہ کی رضا پر اپنی رضا کو نثار کر دینا قربِ حق ہے۔  اللہ کی مخلوق کو اللہ کی مخلوق سمجھنا قربِ حق ہے—  یہ جان لینا کہ یہ سب مخلوق،یہ سب تخلیق، عین حق ہے۔ یہ سب باطل نہیں۔ اللہ کی کائنات میں کچھ بھی تو باطل نہیں۔ خیر ہو یا شر،اُس کی تخلیق کے رنگ ہیں۔ اللہ کی دُنیاپر،یعنی خیر کی دُنیا پر  ”شر “ کسی اور جہان سے حملہ آور نہیں ہوتا،یہ اِسی دُنیا کا حِصّہ ہے،اُسی خالق کی تخلیق۔ ابلیس،اللہ کے مقابلے میں ایک اور مساوی اور مخالف طاقت نہیں۔ ابلیس،اللہ کی مخلوق میں ایک باغی اور منکر طاقت ہے،اللہ ہی کی مخلوق،اللہ کے قبضۂ قدرت میں،اپنی بغاوت اور سرکشی کی میعاد میں مہلت مانگنے والا،اپنی آخری سزا کا منتظر،اللہ کی رحمت سے مایوس،اپنی نا مرادی اور عبرت سے آشنا— اللہ کا باغی تو ہے، اُس کا مقابل نہیں۔ ابلیس مخلوق ہے، اللہ خالق ہے۔ برابری کیسے؟

                اللہ کے مُقرّب جانتے ہیں کہ اللہ کا ہرعمل درست،اُس کا ہر فعل مبارک۔ مُقرّب گلہ اور  شکوہ نہیں کرتا۔ تقرّبِ حق کی منزل جھگڑے اور فساد کی منزل نہیں۔ یہ تسلیم و رضا کی منزل ہے، محبّت و ایثار کی منزل ہے، یقین وایمان کی منزل ہے، عقل و آگہی کی منزل ہے، سوز و عشق کی منزل ہے، یقینِ بے گماں اور سرورِ جاوداں کی منزل ہے، کائنات کو جلوۂ  حق سمجھنے کی منزل ہے، اِنسانوں سے پیار کی منزل ہے، خالق سے مخلوق اور مخلوق سے خالق شناسی کی منزل ہے، وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کے جلوے تلاش کرنے کی منزل ہے، یہ بے تاب دِل اور متحیرّ دماغ کی منزل ہے۔ تقرّبِ الٰہی کی منزل عرفانِ مخلوق سے عرفانِ خالق تک کا سفر ہے۔ مخلوق کی خدمت خالق کی خدمت ہے،مخلوق سے محبّت خالق سے محبّت ہے،اور مخلوق کو نا پسند کرناخالق کی محبّت سے محروم ہونے کی دلیل ہے۔ جس نے خالق کا تقرّب حاصل کر لیا،اُس پر مخلوق کا راز منکشف ہو گیا۔ مخلوق کا راز تقرّبِ حق کے اَسرار میں سب سے بڑا راز ہے۔ جس پر یہ راز آشکار ہو گیا،اُس کے دل سے محبّت الٰہی کے چشمے پھوٹ نکلے۔ اُس کا مخلوق کے لیے سراپا رحمت بن جانا ہی اُس کے تقرّبِ حق کی سب سے بڑی اور سب سے قوی دلیل ہے۔  سلام ہو اُس مُقرّب ِحق کی خدمت میں،جس کا لقب ہی رحمۃ للعالمینؐ ہے!

Pages: 1 2 3 4