قرآن کریم میں اللہ نے اپنے تقرّب کی جتنی راہیں دکھائی ہیں،اُن میں سجدے کے علاوہ سب راہیں مخلوق سے محبّت کی راہیں ہیں۔
اَولاد کے لیے ماں باپ کا اَدب اللہ کے قُرب کا ذریعہ ہے، یعنی ماں باپ کی خدمت کرنے والا اللہ کا مُقرّب ہوتا ہے۔ ہمیشہ سچ بولنے والا، یعنی لوگوں سے صداقت کی بات کہنے والا مُقرّب ہے۔ اِنسانوں پر ظلم نہ کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ غصّہ نہ کرنے والا،لوگوں کو معاف کر دینے والا، لوگوں پر احسان کرنے والا،اللہ کو محبوب ہے۔
زمین پر اِترا کر نہ چلنے والا اِنسان اللہ کو پسند ہے۔ وہ اِنسان جس کا دِل محبّت سے سرشار ہے،اللہ کے قریب ہے۔ اللہ سے محبّت ہی اِنسانوں سے محبّت ہے۔ اللہ کے مُقرّب کسی کے لیے بددُعا نہیں کرتے،کسی پر ظلم نہیں کرتے،ظالم ہونے پر مظلوم ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کے مُقرّب دُنیا کے عبرت کدے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اِنسانوں کی دُنیا میں اِنسانوں سے حُسنِ سلوک ہی راہِ حق ہے۔
اللہ کے نام پر خیرات اِنسانوں کو دی جاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اِنسانوں کی خدمت کے لیے خرچ کرنا ہے۔ یتیم کی خدمت کسی اِنسان کی خدمت ہے، غریب کی مدد کسی اِنسان کی مدد ہے۔ بیمار پُرسی کسی اِنسان کے لیے ہے۔ ماں باپ اِنسان ہیں۔ اللہ کی اطاعت،پیغمبر کی اطاعت سے مشروط ہے اور پیغمبرؐاِنسانوں کی طرح اِنسان ہیں۔ اُن پر وحی کا نزول ہوتا ہے اور وحی کی تعلیمات اِنسان کو رحمتِ عالمؐ بنانے کا علم ہے— گویا کہ اِنسان اِنسانوں کے قریب ہو جائے تو اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ ایک اندھا آدمی اگر توجہ سے محروم ہو جائے تو آسمانوں سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے کہ اے حبیبؐ! اُس اندھے کی طرف توجہ نہ کر کے اللہ کو بہت خوش تو نہیں کیا!
اللہ نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے،اِنسانوں کی دنیا میں۔ اگر اپنے پاس ہی رکھنا ہوتا تو اللہ اپنے پاس ہی رہنے دیتا۔ اِس دُنیا میں آنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اِس دُنیا کی رونقوں میں رہ کر اللہ کو یاد رکھا جائے،اللہ کا تقرّب تلاش کیا جائے۔