اللہ کی تلاش اِنسان کو کسی اِنسان ہی کے پاس لے جاتی ہے۔ اللہ کا راستہ تنہائی میں دریافت ہوتا ہے اور یہ راستہ اِنسانوں میں رہ کر طے کیا جاتا ہے۔
اگراِنسان کے لیے صرف یادِ حق ہی سب کچھ ہوتی تو مُقرّبؐ کی ذات غارِ ِحرا سے باہر نہ آتی۔ جو اِنسان اللہ کے جتنا قریب ہو گا،اُتنا ہی مخلوق کے قریب ہو گا۔ اللہ کے قریب رہنے والے پیغمبروں کو مخلوق کے قریب ہی دیکھا گیا۔ اللہ کا قُرب یقیناً مخلوق کا قُرب ہے لیکن مخلوق کا قرب ضروری نہیں کہ اللہ کا قُرب ہو۔ یہ راز جاننا ضروری ہے۔
اِنسان اگر مخلوق کی خدمت،مخلوق سے محبّت،اپنے کسی مقصد کے حصول کے لیے کرتا ہے تو یہ عمل اللہ کے تقرّب کا باعث نہیں۔ اگر مخلوق کی خدمت اللہ کی رضا کے لیے ہو تو یہ عمل باعثِ قربِ حق ہے۔ نہیں،تو نہیں!
آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں۔ ایک دُوسرے سے نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ وجہ یہ بیان ہوتی ہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کرتے کہ لوگ ہمارے عقیدے کے علاوہ عقیدہ رکھیں،وغیرہ وغیرہ!
اگر ہم ٹھنڈے دِل سے غور کریں تو بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ ہم جسے برداشت نہیں کرتے،اُسی کو تو اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات میں اپنے نہ ماننے والوں کو خود پیدا فرما کر بڑے راز عیاں فرمائے ہیں۔ اللہ اپنے نہ ماننے والوں کو صرف پیدا ہی نہیں فرماتا،اُنہیں رِزق عطا فرماتا ہے۔ اُن کی دنیاوی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ اُنہیں پالتا ہے۔ اُن کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ چاہے تو اُنہیں پیدا ہی نہ فرمائے۔ اُنہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست ونابود کر دے۔ وہ خالق ہے۔ اُس نے ہر طرح کی مخلوق پیدا فرمائی ہے۔ اللہ نے اعمال کے نتیجے کے لیے ایک دِن مقرر فرما رکھا ہے۔ اللہ کے باغی ایک آنے والے دِن کو اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھیں گے،دیکھیں گے اور افسوس کریں گے۔ افسوس کریں گے اور کہیں گے: ” کاش ! ہم مٹی ہی ہوتے“۔ وہ دِن اُس دِن سے پہلے کیسے آئے!