طاقت ایک مبہم لفظ ہے۔  اس کے معنی صرف استعداد یا قدرت کے ہی نہیں،  اس کا مفہوم خوف پیدا کرنا بھی ہے اور اگر خوف زدہ انسان بے خوف ہو جائے تو طاقت کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔  طاقت دراصل خوف کی حدود میں بادشاہی کرتی ہے۔  لاخوف کے مدار میں طاقت کا گزر ممکن نہیں۔

طاقت کے معنی موقع محل کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔  ہم جس شے سے خوفزدہ ہوں،  اس کو طاقت کہنا شروع کر دیتے ہیں۔  طاقتور شے جس شے کو خوف زدہ کرتی ہے،  دراصل خود اس سے خائف ہوتی ہے۔  بچے ماں باپ کو طاقتور سمجھتے ہیں اور جب یہ بچے بڑے ہو جائیں اور جوان ہو جائیں،  تو ماں باپ ان کو طاقتور سمجھ کر ان سے خوفزدہ رہتے ہیں اور اس طرح طاقت اور خوف اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔

طاقت کا استعمال ابتدائے آفرینش سے ہی چلا آ رہا ہے۔  ہم دوسروں کو مجبور کرنے پر مجبور ہیں۔  ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں تسلیم کیا جائے،  مانا جائے،  جانا جائے،  پہچانا جائے۔  ہم دلیل کی طاقت استعمال کرتے ہیں اور اگر یہ طاقت کام نہ کرے،  تو ہم طاقت کی دلیل استعمال کرتے ہیں۔  ہم طاقتور ہونے کے جذبے کے سامنے بے بس ہیں۔

ہماری آدھی سے زیادہ زندگی اس خواہش ہی میں گزرتی ہے کہ طاقت حاصل کریں،  طاقت کا نشہ سب نشوں سے زیادہ ہے۔  ہم علم حاصل کرتے ہیں،  کیونکہ علم طاقت ہے۔  ہم دولت حاصل کرتے ہیں،  کیونکہ دولت طاقت ہے۔  ہم تجربات کرتے ہیں،  کیونکہ تجربہ طاقت ہے،  ہم اقتدار حاصل کرتے ہیں،  کیونکہ اقتدار طاقت ہے۔  ہماری جدوجہد طاقت کی بلند چوٹیوں تک پہنچنے کے لیے ہے۔

خوبصورت انسان اپنے چہرے کی طاقت پر مست ہوتا ہے۔  حسین چہرہ دوسروں کو غلام بنا لیتا ہے۔  حسن میں بڑی طاقت ہے۔  بڑے بڑے ارسطوؔ اِس طاقت کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔

Pages: 1 2 3 4