ہر طاقتور کے اوپر ایک طاقت مسلط ہے،  جو شاید محسوس نہ ہو لیکن یہ اپنا کام کر رہی ہے۔  ہمارا ہر قدم موت کی طرف ہے۔  سانس کی آری ہستی کے درخت کو مسلسل کاٹ رہی ہے۔  کیا طاقت اور کیا کمزوری! ہم رواں دواں ہیں،  اپنی آخری منزل کی طرف۔  فاتحین مفتوح ہو جاتے ہیں۔  طاقتور آخر کمزور ہو جاتے ہیں۔  خوفزدہ کرنے والے آخر خوفزدہ ہو کر رہتے ہیں۔  انسان اگر محسوس کرے کہ عزت دینے والے نے ہی سب انسان پیدا کیے  ہیں اور سب کو زندہ اور آزاد رہنے کا حق ہے،  تو وہ ضرور اپنے لہجے کو بدل لے۔  طاقت غرور پیدا کرتی ہے اور خوف نفرت پیدا کرتا ہے،  اور نفرت حد سے بڑھ جائے تو بغاوت —  اور بغاوت طاقت سے ٹکرا کر اسے ختم کر دیتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اصل حکومت دلوں پر حکومت ہے۔  دلوں پر حکمرانیاں کرنے والوں کی قبریں بھی روشن رہتی ہیں۔  اصل طاقت احترام پیدا کرتی ہے،  خوف نہیں۔  شیر ایک طاقتور اور خونخوار درندہ ہے،  خوف پیدا کرتا ہے،  لیکن شیر کے پاؤں کا کانٹا نکالنے والے انسان کے سامنے شیر بھی     سرنگوں ہو جاتا ہے۔

احسان کرنے والوں کی عزت ہے۔  محبّت کرنے والوں کا احترام ہے۔  سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ انسان طاقت حاصل کرنے کی خواہش سے بھی آزاد ہو جائے۔  فتوحات کرنے کی خواہش کو فتح کر لیا جائے۔  ہم جتنے قلوب خوش کرتے ہیں،  اتنی نیکی ہے، اور جتنے دل زخمی کرتے ہیں،  اتنی خامی ہے۔  چار دن کا میلہ ہے۔  خوش رہنا چاہیے اور خوش رکھنا چاہیے۔  انسان اللہ کو بہت پیارے ہوتے ہیں۔  ان سے پیار کرنا چاہیے تاکہ اللہ عزت عطا فرمائے۔  یہ حقیقت ہے،  اسے مان لینا ہی بہتر ہے کہ عزت اور قوت اللہ کی طرف سے ہے اور اِن کا تحفظ اُس کی مخلوق کی خدمت سے ہی ہو سکتا ہے۔

جو انسان اللہ کے زیادہ قریب ہے،  وہ مخلوق کے لیے زیادہ رحیم ہے اور جو انسان یا قوم یا ملک مخلوق میں خوف پیدا کرتا ہے،  وہ اللہ کے قریب نہیں ہے،  اور جو اللہ کے قریب نہیں ہے،  اس کا مرتبہ حجاب، اس کی طاقت حجاب، اس کی شہرت حجاب،  اس کا وجود حجاب۔  فرعون کی طاقت اور اَنا پرستی بے بس ہو گئی،  اُس انسان کے سامنے،  جو واحد اور لاشریک اللہ کی محبّت میں عزت اور حقیقی قوّت کا لازوال انعام حاصل کر گیا۔

Pages: 1 2 3 4