قوموں کی زندگی میں بھی کئی طرح کی طاقتیں کام کرتی ہیں۔ طاقت کے دم سے ہی سماجی اور معاشی نظام قائم رکھا جاتا ہے۔ پولیس ایک طاقت کا نام ہے، جو مجرموں کو خوف زدہ رکھنےکے لیے قائم کی گئی ہے۔ اگر یہ طاقت مجرم اور معصوم کے امتیاز سے آشنا نہ ہو، تو یہ طاقت بھی اپنے مبیّنہ مفہوم سے باہر ہو جائے۔
حکمرانوں کے پاس طاقت ہوتی ہے، اور یہ طاقت ہونی چاہیے۔ اس کے دم سے حقوق و فرائض کے رشتے قائم رہتے ہیں۔ طاقت کا ہونا ضروری ہے۔ اس کا اظہار اور استعمال ضروری نہیں۔ طاقت کا کثرت سے استعمال، طاقت کو کمزور کر دیتا ہے۔ والدین کی طاقت کا آخری استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد سے کہیں کہ ”بیٹا! ہم آپ کے والدین ہیں۔ “ ماتحتوں میں مرتبے کی عزت و توقیر کا شعور نہ ہو تو مرتبے کا اظہار بے معنی سا ہو کر رہ جاتا ہے۔
ہر ملک اپنے پاس فوج کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اس طاقت کے دم سے ہی دشمن خائف رہتے ہیں اور اس طرح قوموں کی آزادی محفوظ رہتی ہے۔ جنگ کی تیاری امن کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، لیکن اگر تیاریاں حد سے بڑھ جائیں تو امن کا مفہوم ہی ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ عجیب تضاد ہے کہ آزادی کا خاتمہ بھی طاقت سے ہوتا ہے۔ آزادی کا مطلب خوف سے آزادی ہے۔ آج کی آزاد دنیا عظیم جنگی تیاریوں میں مقیدہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی طاقت اِس حد تک بڑھا چکے ہیں کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی آزادی کا مفہوم ختم ہو گیا ہے۔
طاقت کے نشے، طاقت کے حصول اور طاقت کے اضافے نے انسان سے آزادی اور آزاد خیالی چھین لی ہے۔ غلامی خوف کا دوسرا نام ہے۔ طاقت جب خوف پیدا کرتی ہے، تو آزاد انسان غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ بڑی قومیں جب طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتی ہیں، تو اس کا مفہوم مہذب دنیا کی مکمل تباہی کے قریب ہوتا ہے۔ طاقت کی زبان بولنے والے دنیا کو تباہی کے دہانے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
طاقت کے حصول اور طاقت کے اظہار نے انسان کو غافل کر دیا ہے۔ انسان دوسروں کو موت سے ڈراتے ڈراتے خود موت کے منہ میں جا پہنچتا ہے۔