انسان کو زندگی میں بے شمار طاقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے،  اِس لیے اُس کے پاس بے شمار اندیشے ہوتے ہیں۔  غریب ہونے کا خوف دولت کو بے پناہ طاقت بخشتا ہے۔  بے خوف غریب دولت کے طاقتور صنم کدے کا ابراہیم ہے۔

ہمیں گمنام ہونے کا خوف رہتا ہے،  اس لیے ہم ناموری کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں اور ناموری،  نیک نامی اور بدنامی کے درمیان کہیں بھی ہو،  ہمیں مجبور کر دیتی ہے۔  جوں جوں انسان کا نام پھیلتا ہے،  وہ اپنی ذات کو پھیلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔  وہ حاوی ہونا چاہتا ہے،  چھا جانا چاہتا ہے۔  اپنی شہرت کی طاقت کو برقرار رکھنےکے لیے وہ کسی خیر شر کی تمیز سے بیگانہ سا ہو جاتا ہے۔  انسان فتوحات کرتا ہے،  طاقت کے ذریعے،  طاقت کے لیے۔  وہ انسانوں کو موت کا خوف دے کر اپنی زندگی کی طاقت منواتا ہے۔  فاتحین ِ عالم تلوار اور آگ کا سہارا لے کر اپنی طاقت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔  انسانوں کا قتلِ عام کرکے،  اُن کے خون سے،  اپنے چہروں کو سرخرو سمجھتے رہے ہیں۔

طاقت ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔حُسن کی طاقت کے مقابلے میں انسان عشق کی طاقت لاتا ہے اور طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔  منوانا اور انکار کرنا اَزل سے چلا آ رہا ہے۔  کسی طاقت کا منکر اُس کا ابلیس کہلاتا ہے۔  یہی انسانوں کی دنیا میں بھی ہے۔  کسی طاقت سے انکار کرنے والا باغی کہلاتا ہے،  شیطان کہلاتا ہے،  اور ماننے والا مخلص اور محبّ کہلاتا ہے۔

بہرحال طاقت ایک عجیب راز ہے، ایک پُراَسرار شے ہے،  جو انسان میں دوسروں سے ممتاز ہونے کا شوق پیدا کرتی ہے۔  انسان اپنے قد اور اپنی حد سے باہر نکل کر بھی دوسروں کو پست قامتی پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

طاقت کا استعمال انسانی تاریخ میں بڑے بڑے واقعات پیدا کرتا رہا ہے۔  لوگ اپنی دولت، اپنا وقت، اپنی عمر اور اپنی عاقبت خراب کرکے بھی دوسروں کو خوف زدہ کرنے سے باز نہیں رہتے۔  اگر خوف پیدا کرنے کے عمل کو ترک کر دیا جائے،  تو یہ دنیا   نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے۔  ہر ماحول اپنے لیے طاقت کا الگ مفہوم رکھتا ہے۔  لفظ وہی رہتا ہے،  لیکن معنی بدلتے رہتے ہیں،  اس کا دائرہ بدلتا ہے، اِس کی تاثیر بدل جاتی ہے۔ مثلاً اگر استاد شاگردوں پر طاقت استعمال کرے،  تو اس کے معنی ایک آدھ چپت کے ہوں گے اور اس طاقت کا استعمال شاگرد کی زندگی کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔  استاد کی نیّت اصلاح ہے۔  یہاں طاقت کا استعمال برائے اصلاح ہے۔  استاد کا خوف طالب علم کو علم کی لگن دے سکتا ہے، اور اگر یہ خوف حد سے بڑھ جائے تو طالب علم میدان چھوڑ کر بھاگ نکلتا ہے۔  طاقت کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو اطاعت کی بجائے بغاوت پیدا کر سکتا ہے۔  جس طرح خوراک جسمانی طاقت کے لیے ضروری ہے،  لیکن اگر خوراک کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو صحت کی تباہی کی علامت ہے۔

Pages: 1 2 3 4