کم و بیش ہر کامیاب اِنسان اِس خوشی میں مبتلا ہو کر اپنی کامیابی کو ہی اپنے لیے وبالِ جان بنا لیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر آدمی ادیب بننے کا شوق رکھتا ہے اور بنتا ہے۔ ادیب کو سیاستدان کہلانے کا حق چاہیے، کیونکہ وہ شعر کہتا ہے۔ سیاستدان حکومتوں سے ناراض ہی رہتے ہیں، جیسے یہ اُن کے محبوب ہوں اور حکومتیں اللہ کا نام لے کر اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔ سب کامیاب ہیں اور سب ناکام!
جب ہم اپنے لیے ایک اندازِ فکر کا انتخاب کرتے ہیں تو ہمیں دوسرے انداز ہائے فکر پر اتھارٹی بننے سے گریزکرنا چاہیے۔ ایک کامیاب گلوکار کے لیے ضروری تونہیں کہ وہ اپنے انداز سے ملک کا نام روشن کرے اور اپنے انداز سے مذہب پر بحث کرے، اور یہ انداز صرف انداز ہی ہو۔ چونکہ ہماری زندگی شعبوں، پیشوں، دائروں اور زاویوں میں تقسیم ہو چکی ہے، اِس لیے کامیابی کا مفہوم اِس دَور میں اپنے پیشے اور اپنے شعبے میں کامیابی ہے، اور یہ کامیابی اپنے دائرے سے باہر نکل آئے تو ناکامی کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے۔
ہماری ملکی سیاست میں اب ہر شعبۂ حیات سے قیادت اُبھر کر باہر آ رہی ہے۔ اللہ رحم فرمائے۔ ہمارا مُلک قیادت کے بحران میں بھی کثیر القیادت رہے گا۔ قیادتوں کی کثرت، قیادت کی عدم موجودگی کی دلیل ہے۔
کامیابی میں بڑے اندیشے ہوتے ہیں۔ کامیاب مسکراہٹ میں بڑے آنسو پنہاں ہوتے ہیں۔ کامیاب فاتح آخر ایک قاتل ہی ہوتا ہے۔ ہلاکو ہو یا سکندرِ اعظم، کام ایک ہی ہے اور غالباً انجام بھی ایک ہی ہے۔ دُنیا کو فتح کرنا اور خالی ہاتھ گھر سے باہر پردیس میں مرنا، کامیابی کا المیہ ہے۔ اجتماعی یا گروہی کامیابی میں کم خطرات ہیں۔ مقصد کا حصول قوموں کو عروج دیتا ہے،لیکن انفرادی کامیابی انسان کو اپنی ذات کے خول میں قید کردیتی ہے اور بعض اوقات اِنسان اپنی کامیابی کے لیے وہ عظیم مقاصد ترک کر دیتا ہےجن کو اپنی کامیابی کے جواز کے لیے پیش کرتا ہے۔ مثلاً ایک کامیاب ڈاکٹر کو لیں۔ ڈاکٹر کا مدعا اور اصل مدعا خدمت ِ اِنسانیت ہے۔ مریضوں کی خدمت، دُنیا سے بیماری کو کم کرنا اور اِس طرح نیکی اور عبادت کو اپنی کامیابی کے جواز کے طور پر پیش کرنا، لیکن ایک کامیاب ڈاکٹر آہستہ آہستہ اپنی کامیابی کے تقاضوں سے مجبور ہو کر اِتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ بے حس ہو جاتا ہے۔ وہ مریضوں سے فیس وصول کرتا ہے۔ نیکی کی بجائے مال کا معاوضہ، اور یہ عمل اِس حد تک بڑھتا ہے کہ عذاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ میڈیکل سینٹروں کی تعداد میں اضافہ، خدمت ِ خلق کی بجائے طِب کو انڈسٹری میں تبدیل کر چکا ہے۔ کامیابی کے دامن میں مسرتیں نہیں، حسرتیں ہوتی ہیں۔
کامیابی کا انجام اکثر اوقات اُس مقصد کے برعکس ہوتا ہے، جو کامیابی کی وجہ ہے۔ اِنسان لوگوں میں عزت حاصل کرنے کے لیے کامیابی چاہتا ہے۔ اگر عزت نہ ملے — تو؟ لوگ سکون حاصل کرنے کے لیے دولت چاہتے ہیں۔ اگر سکون نہ ملا — تو ؟