جس کا خدا پر یقین نہ ہو،  اُس کا دُعا پر کیوں یقین ہو گا۔ دُعا دراصل ندا ہے،  فریاد ہے،  مالک کے سامنے التجا ہے، اپنی فانی اور محدود زندگی کی کسی اُلجھن سے نکلنے کے لیے!!

فریاد کا سلسلہ پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔  معصوم اور بے شعور بچّہ فریاد اور پکار سے زندگی کے سفر کا آغاز کرتا ہے اور اس کے بعد یہ عمل جاری رہتا ہے۔  انسان فریاد کرتا ہی رہتا ہے،  کسی نہ کسی مشکل سے نجات کے لیے۔

بیمار آدمی جب اللہ کو پکارتا ہے تو وہ اپنی بیماری سے نجات چاہتاہے۔  اسے اللہ کے ساتھ دوسری وابستگیاں یاد نہیں رہتیں۔ وہ صرف علاج چاہتا ہے،  معالج چاہتا ہے،  شفا چاہتا ہے۔  غریب کی دُعا غریبی سے نجات کے لیے ہے۔  محبّت کرنے والے اللہ سے محبوب کا قرب مانگتے ہیں۔  غرض یہ کہ ہر انسان ایک الگ خواہش لے کر اللہ کو پکارتا ہے۔

اگرگوشِ باطن سے سنا جائے تو یہ کائنات ایک مجسم فریاد کی صورت نظر آئے گی۔  دُعا     کا شعور فطری طور پر ودیعت کیا گیا ہے۔  آدابِ دُعا اور فضیلتِ دُعا مذہب نے سکھائے ہیں، لیکن یہ شعور زندگی میں موجود ہے۔

بچہ بیمار ہو جائے تو ماں کو آدابِ دُعا خود بخود آ جاتے ہیں۔  جہاز خطرے میں ہو تو مسافروں کو دُعا سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  دُعا اُن کے دل سے نکلتی ہے، بلکہ اُن کی آنکھ سے آنسو بن کر ٹپکتی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5