ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، اسے ویسے ہی سچ سمجھ لیتے ہیں۔ دُور بین، خردبین نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ویسے سچ نہیں۔ ہم ساکن ہیں، لیکن ہم متحرک ہیں۔ ہماری عمر بڑھ رہی ہے، لیکن ہماری عمر کم ہو رہی ہے۔
یہ سچ ہے کہ سائنس نے انسان کو آسائشیں دی ہیں۔ انسان کو تحفظ دیا ہے۔ انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا ہے، لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ سائنس نے انسان کا جینا حرام کر دیا، انسان کو غیرمحفوظ بنا دیا۔ انسان کا آسمانی سفر زمین پر آگ برسانے کے لیے ہو رہا ہے۔
سچ اور جھوٹ صرف پہچان کے درجے ہیں۔ ان میں سے کچھ باطل نہیں۔ اس کائنات میں سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ جو کچھ تخلیق کیا گیا ہے، وہ باطل نہیں ہے۔
ایک ملک کی سچائی دوسرے ملک کی سچائی نہیں ہے۔ ہم جس شے سے کراہت کرتے ہیں، وہ دوسرے ملک میں مرغوب غذا ہے۔ اسی طرح ایک زمانے کا جھوٹ، دوسرے زمانے کا سچ ہو سکتا ہے۔ فاصلوں سے سچ نظر آنے والی شے قریب سے دیکھو تو جھوٹ ہے، سراب ہے۔
زمین پر چاند کی چاندنی ہے لیکن چاند پر چاندنی نہیں۔ اب اصل صداقت کیا ہے؟ زندگی کا خواب الگ ہے، خواب کی زندگی الگ! انسان کسی ایک صداقت کے سفر میں ہوتا ہے۔ اسے راستے میں اور طرح کی صداقتیں ملتی ہیں۔ وہ انھیں جھوٹ سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ انسان اپنے لیے جو کچھ پسند کرتا ہے، عین ممکن ہے کہ اس کے لیے نقصان دہ ہو۔ اسی طرح وہ اپنے لیے جو کچھ نا پسند کرتا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ اس کے لیے مفید ہو، یعنی ہماری اپنی پسند اور ناپسند کی صداقت بھی جھوٹ ہو سکتی ہے۔