انسان،  انسان سے مقابلہ کرنے کو کامیابی اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔  وہ سمجھتا ہےکہ زندگی کو زمانے سے مقابلہ کرنا ہے،  بادِ مخالف سے ٹکرانا ہے،  زندگی کو راہ کی دیواریں گرانا ہے۔  کچھ لوگوں کا خیال ہے:

”انسان کی راہ میں ستم ہائے روزگار حائل ہیں،  انسان کو گردشِ لیل و نہار سے مردانہ وار گزرنا ہے،  انسان مسافر ہے جس کی راہ میں فاصلے کی دیوار ہے، انسان کو انسانوں کے اژدہام سے راستہ لینا ہے،  انسان کو فطرت کے ظلم سے نجات حاصل کرنا ہے، انسان کو خطرناک، ناہموار، اونچے اور دشوار پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنا ہے،  انسان کا ہر شے سے، ہر موسم سے، ہر انسان سے، ہر بات سے مقابلہ ہے، انسان کی زندگی آزمائشوں کی زندگی ہے، دشواریوں کا زمانہ ہے،  دکھوں اور آہوں کا تسلسل ہےاور یہ زندگی انسان کے لیے ایک مشکل امتحان ہے، ایک کڑی منزل ہے، ایک بے آب و گیاہ صحرا ہے، انسان ایک کشتی کی طرح سمندر کی تند موجوں کے رحم و کرم پر ہے،  انسان دنیا میں اس لیے آتا ہے کہ وہ ایک شیشے کی طرح پتھروں سے ٹکراتا چلاجائے، انسان اس بے رحم جہاں میں ظالم فلک کے نیچے اپنی قوّتِ برداشت کو ڈھال بنائے، اپنے جذبے کو تلوار بنائے، اپنے حوصلے کو بلند رکھے اور انجامِ کاراس دشمنِ جاں زمانے کو زیر کرے، انسان کو صرف کوشش اورمسلسل کوشش،  صرف مقابلے اورمسلسل مقابلے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انسان کی راہیں اُس کی بے مایگی نے مسدود کر رکھی ہیں، انسان کو انسان سے بچناہے کیونکہ انسان انسان کو ڈستا ہے، انسان  انسان کو ہڑپ کر لیتا ہے،  نگل جاتا ہے، انسان  انسان کا استحصال کرتا ہے،  انسان  انسان کو مجبوریاں دیتا ہے،  انسان  انسان کاسکون برباد کرتا ہے،  انسان   انسان کا سرمایہ لُوٹ لیتا ہے،  انسان  انسان کی عزت خاک میں ملاتا ہے،  انسان   انسان کو حیوان بنا کے رکھ دیتا ہے،  انسان  انسان سے نجات صرف مقابلے سے ہی پا سکتا ہے،  مقابلہ نہ ہو تو انسان  انسان نہیں بن سکتا، ترقی نہیں کر سکتا،  مہذّب نہیں ہو سکتا، متمدّن نہیں ہو سکتا بلکہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ “

مقابلے کا یہ تصوّر انسان کو اُس کی اعلیٰ روحانی اقدار سے محروم کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔  مقابلہ بین الطبقاتی ہو یا بین الاقوامی،  ایک بے روح،  مادّی اور غیر فطری وباہے۔  زندگی کسی مقابلے کا نام نہیں۔  زندگی تو بس زندگی ہے ، ایک عطا ہے،  ایک انعام ہے، ایک نوازش ہے، ایک ایسا کرم جس کے لیے شکر ضروری ہے۔

تاریخِ عالم فتوحات و شکست، جرائم و سزا کا ایک ریکارڈ ہی نہیں بلکہ یہ محسنین کی داستان بھی ہے۔  مقابلہ کرنے والا کچھ لینا چاہتا ہے اور محسن کچھ دینا چاہتا ہے۔  بادشاہ مقابلے کرتے رہے اور آخر کار کھنڈرات کی شکل میں اپنی عبرت کی داستان چھوڑ گئے۔  ظلِّ سبحانی اور عالم پناہ کہلانے والے آنجہانی اور فانی ثابت ہوئے۔

مقابلہ انسانوں میں نفرت کا بیج بوتا ہے اور مقابلے کی انتہائی شکل جنگ ہے، تباہی اور بربادی۔  انسانوں کی کھوپڑیوں پر بیٹھ کر شاہی فرمان جاری کرنے والے ہلاکو ہمیشہ کے لیے قابلِ نفرت رہے۔ انسانی خون کے دریا بہانے والے آخر اسی دریا میں غلطاں نظر آئے۔  مقابلہ اپنے لیے فتح چاہتا ہے اور دوسروں کے لیے شکست ،اور یہی مقابلے کی برائی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6