جب تک انسان اپنے عقیدے کی اصلاح نہیں کرتا، وہ اِسی طرح سرگرداں رہے گا۔ وہ ٹکراتا رہے گا، اپنا سر پھوڑتا رہے گا، زندگی کا گلہ کرتا رہے گا، زندگی سے اُلجھا رہے گا اور اسی اُلجھاؤ میں اُس کی سانس اُکھڑ جائے گی اور پھر یہ سارے مقابلے، ساری فتوحات، سارے تمغے، سارے سرٹیفکیٹ، سارے سرمائے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ وہ دنیا سے اپنے حاصل کو لاحاصل چھوڑتا ہوا رخصت ہو جائے گا — آندھی اور چراغ کو برسرِپیکار دیکھنے والوں نے زندگی کو کیا دیکھا — آنکھ والے اندھے رہے!
آندھی آتی ہے، چڑیا کا نشیمن اُڑ جاتا ہے۔ صبح وہی چڑیا اپنی تسبیح و مناجات میں نغمہ سَرا ہوتی ہے۔ اسے کسی واقعے اور سانحے کی پرواہ نہیں۔ وہ بس مجسّم تشکّر ہے، سراپا نغمہ۔
انسان غور نہیں کرتا کہ اُسے بنانے والے نے کیا بنایا اور کیسے بنایا — !انسان غور نہیں کرتا کہ اُس کی بینائی کیا ہے — آنکھ بنانے والے نے بینائی کو نظاروں کی خوراک مہیّا کی ہے۔ نظاروں سے لطف اندوز ہونے کی بجائے انسان نے خود کو کج بیں بنا کے رکھ دیا۔ وہ حسن و رنگ تلاش کرنے کی بجائے ان کے نقائص کا متلاشی ہو کر رہ گیا ہے، اس لیے کہ اسے مقابلے کا علم دیا گیا ہے — مطالعے اور مشاہدے سے محروم، مقابلہ ہی مقابلہ، جہالت ہی جہالت، حماقت ہی حماقت!!
انسان محفوظ ہونے کی آرزو میں غیر محفوظ ہونا محسوس کرتا ہے اور اِس احساس کو مقابلے کے میدان میں لے جا کر اپنی زندگی برباد کرتا رہا ہے۔ وہ پستول کو اپنی جان کا محافظ سمجھتا ہے اور خود پستول کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کون کس کا محافظ ہے۔
وہ دولت اکٹھی کرتا ہے تاکہ غریبی سے بچ سکے اور پھر اِس دولت کو خرچ نہیں کرتا، کہ غریب نہ ہو جائے اور اس طرح دولت کی موجودگی میں غریبانہ زندگی بسر کرتا ہوا آخر کار ہلاک ہو جاتا ہے۔ غریبی کا مقابلہ کرتا ہے اور غریبی ہی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اپنے حال کے خود ہی مقابل ہے اور خود ہی خود کو ہلاک کرتا ہے۔