عقیدے کی اصلاح یہ ہے کہ ہم یقین کر لیں کہ زندگی دینے والے نے اِن تین باتوں کا فیصلہ کر رکھا ہے:
۱۔ زندگی کتنا عرصہ قائم رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی۔ اسے کوئی حادثہ وقت سے پہلے ختم نہیں کر سکتا اور کوئی احتیاط اسے وقت کے بعد قائم نہیں رکھ سکتی۔ جب عرصۂ قیام مقرر ہو چکا، تو مقابلہ کیا ہے۔ زندگی کا انجام جب موت ہی ہے، تو پھر یہ کوشش اور مقابلہ کیا ہے؟
۲۔ عزّت اور ذلّت کوشش کے درجے نہیں، نصیب کے مقامات ہیں۔ ذرّے کو آفتاب کب بننا ہے اور آفتاب کو گرہن کب لگنا ہے، اس کا فیصلہ ہو چکا — پیدائش کے ساتھ ہی نیک نامی اور بدنامی کے ایّام پیدا ہو جاتے ہیں — اب مقابلہ کس بات کا؟
۳۔ رزق مقرر ہو چکا — مال کا رزق، سانس کا رزق، بینائی کا رزق، عقل کا رزق، ایمان و ایقان کا رزق! کوئی کوتاہی خوشحالی کو زوال نہیں دے سکتی۔ یہ فیصلہ ہو چکا۔ مقابلہ واہمہ ہے۔
تو — صاحبانِ عقل و بصیرت ! زندگی ایک مختصر عرصہ ہے، ایک محدود قیام، ایک قلیل دَور۔ اسے بے مقصد دَوڑ میں ضائع نہ کریں — یہ محبّت سے ملنے والا انعام، محبّت ہی کے لیے ہے۔ اسے نفرتوں اور جھگڑوں میں برباد نہ کیا جائے — یہ خالق کی اطاعت اور پہچان کا زمانہ ہے، اسے مخلوق سے مقابلے میں خرچ نہ کیا جائے — یہ ایثار اور خدمت کے لیے ہے، اسے ہلاکت کی نظر نہ کیا جائے — یہ متاعِ قلیل ہے، کافرانہ طرزِ حیات کی تمنّا میں صَرف نہ کی جائے۔ اتنا پھیلو کہ سمٹنا مشکل نہ ہو، اتنا حاصل کرو کہ چھوڑنا مشکل نہ ہو۔ سکونِ قلب آسائشوں کے حصول سے نہیں، اصلاحِ ایمان سے حاصل ہو گا۔ ترقی کسی ایسی دوڑ کا نام نہیں جس کے آگے آگے لالچ ہو اور اس کے پیچھے خوف اور ندامت۔ ترقی — ٹھہرنے، دیکھنے اور لطف لینے کا نام ہے۔ یہ مقابلے، یہ گردشیں، یہ کوششیں، یہ ہلاکتیں — کس کام !!