وہ امن چاہتا ہے اور اس کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے جنگ کی تیاری کرتا ہے۔  امن کی خاطر جنگ  — مقابلے کا کرشمہ ہے۔

انسان ترقّی کرنا چاہتا ہے،  فیکٹریا ں لگاتا ہے، مکان بناتا ہے اور ہر لمحہ،  ہر لمحے سے مقابلہ کرتا ہوا فیکٹری اور مکان کو چھوڑتا ہوا ایک مٹی کے تاریک گھروندے میں ہمیشہ کے لیے روپوش ہو جاتا ہے۔

وہ بڑے بڑے ایّام مناتا ہے، یادیں مناتا ہے، مقابلے بیان کرتا ہے —  پرانے مقابلے، پرانے واٹر لُو — پرانے پانی پت —  پرانے ابنِ قاسم،  پرانے غزنوی —  پرانے سومنات — !!

وہ پرانی فتوحات پر نئے چراغاں کرتا ہے… پرانی خانقاہوں پر نئے عرس مناتا ہے  —اور نئے چراغاں کے باوجود اُس کے اپنے دل میں پرانے اندھیرے رہتے ہیں۔  انسان نہیں سمجھتا! وہ کیسے سمجھے ؟ڈھول کی تھاپ پر اور طبلے کی تال میں دھمال ڈالنے والا انسان بھول جاتا ہے کہ انسان کو عقل نام کی دولت بھی ملی ہوئی تھی —  نہ جانے یہ دولت کہاں ضائع ہو گئی —  وہ تو صرف مقابلہ کرتا ہے —  ڈھول کا ڈھول سے، طبلے کا طبلے سے، آواز کا آواز سے — اور اسی مقابلے میں اتنا محو ہوتا ہے کہ اصل واقعہ ہی بھول جاتا ہے۔  بس مقابلہ یاد رکھتا ہے،  دما دم مست قلندر —  نعرے لگاتا ہوا غافل انسان خاموش ہو جاتا ہے۔  یادیں مناتا ہوا خود فراموش ہو جاتا ہے۔

عقیدے کی اصلاح نہ ہو تو مقابلہ جاری رہے گا۔  خیال کا مقابلہ وہم سے،  ہوا کا مقابلہ ہوس سے،  روایت کا مقابلہ حقائق سے،  خواب کا مقابلہ حقیقت سے،  مذہب کا مقابلہ ضرورت سے،  ذات کا مقابلہ کائنات سے اور سیاست کا مقابلہ سیّاٰت سے!!

Pages: 1 2 3 4 5 6