ایک پُر ہجوم سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر چہروں کا مشاہدہ کریں تو چہروں کی ایک کہکشاں ہے کہ جھلمل جھلمل کرتی ہے۔ تیزی سے رواں دواں چہرے ایک عجیب کہانی ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے ایک طاقتور مقناطیس لوہے کے ذرّوں کو کھینچے چلا جا رہا ہے،  اور یہ ہے بھی حقیقت۔ آگے آگے لوبھ، لالچ ہے جسے مقصد بھی کہہ سکتے ہیں اور پیچھے پیچھے چہرے متحرک ہیں۔

 کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ خوف کا کالا ناگ ان کے پیچھے بھاگ رہا ہے،  غریب ہونے کا خوف  — اور پیسہ کمانے کے لیے گھر سے چہرے نکل آتے ہیں۔ اِن سہمے ہوئے لالچ زدہ چہروں میں ایسے چہرے بھی ملیں گے جو شانت ہیں،  مطمئن ہیں۔ اُن کا منظر الگ ہے۔ وہ ہجوم کے چہروں اور چہروں کے ہجوم سے الگ چہرے ہوتے ہیں۔ وہ بھی رواں دواں ہیں، لیکن اپنی رفتار کے ساتھ۔  اُن کو لوبھ اور خوف سے نجات مل چکی ہوتی ہے۔

اسی ہجوم میں ایسے چہرے بھی مل سکتے ہیں جو اپنے ناظرین ِ کرام کی رفتارِ سفر بدل دیتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی مقصد ِ سفر بھی بدل جاتا ہے۔ بجھے ہوئے افسردہ چہروں میں ایسے چہرے جگمگاتے ہیں۔  یہ منوّر چہرے رنگ و نور کے مظاہر ہیں۔ فطرت کے کام ہیں، کسی کو کیا بنا دیا، کسی کو کیا۔ یہاں اَمیری اور غریبی کی بات نہیں ہو رہی،  حسن ِ تخلیق کا ذکر ہو رہا ہے۔

چہرہ عقدہ کشا بھی ہے۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ طالب علم کو بھولا ہوا سبق استاد کا چہرہ دیکھتے ہی یاد آ جاتا ہے۔ مریدوں کو پیر کا چہرہ بلکہ تصوّر چہرہ دشت و جبل میں رہنما نظر آتا ہے۔  گناہوں کی وادیوں میں سے گزرنے والے انسان کو ماں باپ کے چہرے محفوظ کرتے ہیں۔ باپ کا چہرہ، استاد کا چہرہ، پیر کا چہرہ ضمیر کی آواز ہے۔ انھی پاکیزہ چہروں کی یاد سے ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ رات کے تاریک سناٹوں میں چہروں کی یاد نغمات کا کام دیتی ہے۔

ایک دفعہ ایک شخص زندگی کی نا مناسب مصروفیتوں سے یک لخت تائب ہو گیا۔  اُس کے دوستوں نے پوچھا:”بھائی!تم کل تک رنگیلے تھے، آج کیا ہو گیا؟“ اُس نے کہا”میں عجیب حال میں پہنچ گیا ہوں، ہر وقت میری آنکھوں میں میری بیٹی کا چہرہ رہتا ہے، میری ناپاک نگاہوں کو میری بیٹی نے پاکیزہ کر دیا ہے۔ “

Pages: 1 2 3 4 5 6