انسان کے کردار کا اُس کے گرد جمع ہونے والے چہروں سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔  چہرہ ہی کردار، مرتبہ، تشخص کی اصل”وردی“ ہے۔ چہرے پر سب کچھ لکھا ہوتا ہے۔  مسافر کے سفر کی صعوبتیں اُس کے چہرے پر بہت کچھ لکھ جاتی ہیں۔ گزرا ہوا زمانہ چہرے پر جُھریوں کی شکل میں موجود رہتا ہے۔ آنکھوں سے بہنے والے آنسو،  رخساروں پر بہت کچھ مُرتسم کر جاتے ہیں۔

چہرہ آئینہ ہے، انسان کے باطن کا۔ دل کی بات، دل کا حال چہرے پر ضرور نمایاں ہوتا ہے۔  محتاج   کا چہرہ اور ہے،  اور سخی کا اور۔

 بعض اوقات چہرہ انسان کی اصلیت کو چھپانا چاہتا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔  پہچان رکھنے والے کے سامنے سب عیاں ہیں اور اگر پہچان نہ ہو تو چہرے کی تاثیر بے معنی ہے۔

کچھ لوگوں کو صرف ایک ہی چہرہ پسند ہوتا ہے۔ وہ اپنا چہرہ ہے۔ وہ اپنے چہرے کی سرخی پر مست ہو کر اپنا خون سفید کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کائنات میں اور کوئی چہرہ نظر ہی نہیں آتا۔

چہرے الرجی بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی کا چہرہ دیکھتے ہی کسی کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ یہ محاورہ نہیں، حقیقت ہے۔ کوئی چہرہ انسان کے لیے اعصاب شکن ہوتا ہے۔  نا پسندیدہ چہروں میں زندگی گزارنے والے کا اکثر ہارٹ فیل ہو جایا کرتا ہے۔ چہروں کو خالق کی نسبت سے ہی دیکھنا عافیت ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6