چہرہ ثواب بھی ہے اور عذاب بھی۔ وصال کے انتظار میں جدائیاں کٹ جاتی ہیں۔  محبوب کا چہرہ مصحف ہے، اور نا محبوب چہرہ استغفر اللہ،  عذاب ہے۔ مظلوم کے لیے ظالم کا چہرہ قہرِ خداوندی سے کم نہیں۔ عجیب بات ہے کہ کوئی چہرہ بیماری دے جاتا ہے اور کوئی چہرہ شفا عطا فرما جاتا ہے۔

وحدت الوجود پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ اس کے حق میں بھی اور اس کی مخالفت میں بھی۔  چہروں کے علم میں وحدت الوجود مشاہدے کا ایک ایسا مقام ہے جہاں ہر چہرہ ایک ہی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ احباب و اغیار کے چہرے سب ایک ہی چہرہ ہیں۔ وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت، سب ایک ہی چہرے کی آنکھ مچولیاں ہیں۔ ایک ہی جلوہ ہے، بلکہ جلوہ ہی جلوہ ہے۔ اگر ایسا مشاہدہ نہ ہو تو ”ہمہ اُوست“ خطرے سے خالی نہیں۔

چہرہ تقویت ِ ایمان کا باعث بھی ہے اور ایمان شکن بھی ہے۔ محبوب چہرہ، دار سے پکارے تو سر کٹوانا مشکل نہیں۔ کافر چہرہ نگاہ میں آ جائے تو انسان کو کعبے کا راستہ بھول جائے۔  چہروں کا طلسم زمان و مکاں کے سب طلسمات سے زیادہ قوی ہے۔ چہرہ خواب کی تعبیر ہے۔  زندگی کے بہتے ہوئے دریا میں انسانی چہرے حباب کی صورت اُبھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔

 چہروں کی کائنات میں ہر چہرہ ایک الگ کائنات ہے۔ ہر چہرہ الگ مضمون ہے، الگ صفت ہے۔  چہرہ مظہرِ انوار بھی ہے، حدتِ نار بھی۔ چہرہ فرشتہ صفت بھی ہے، شیطان صورت بھی۔  چہرہ رحمانی بھی ہے، حیوانی بھی  — شیر کی طرح دلیر چہرہ، سہما ہوا بزدل چہرہ،  آئینہ رُوچہرہ، بے کیف پتھرچہرہ،  خوش خبر چہرہ، بد شگون چہرہ،  محتاج چہرہ، غنی چہرہ،  خوش حال چہرہ،  پائمال چہرہ، آسودہ چہرہ، آزردہ چہرہ، دل میں بسنے والا گلاب چہرہ، آنکھوں میں کھٹکنے والا خارچہرہ، مشتاق چہرہ، بے زار چہرہ، اپنا چہرہ، بیگانہ چہرہ، کافر چہرہ، مومن چہرہ، کرگس چہرہ،  شہباز چہرہ،  گلنار چہرہ، بیمار چہرہ، خوابیدہ چہرہ،  شب بیدار چہرہ، فانی چہرہ، باقی چہرہ،  غرض یہ کہ ہر چہرے کی ایک صفت ہے اور ہر صفت کا ایک چہرہ ہے۔

چہرہ دل میں اُترتا ہے۔ چہرہ تخیل کو پرواز دیتا ہے۔ چہرہ رعنائیِ خیال پیدا کرتا ہے۔  چہرہ ہی آشوبِ تیرگی سے بچاتا ہے۔ اگر کوئی چہرہ نظر میں آئے تو سب سے پہلے اپنی بینائی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ محبوب چہروں کو قدر شناس نگاہوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ اگر بینائی ختم ہو جائے تو چہروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5 6