خوش شکل چہرہ، قدرت کی طرف سے عطا ہونے والا پاکیزہ رزق ہے۔
چہروں کی کائنات میں سب سے زیادہ حسین چہرہ، اُس مقدّس ہستی کا ہے جس پر اللہ اور اُس کے فرشتے دُرود بھیجتے ہیں۔ آپؐ کا چہرۂ مبارک صورتِ حق کا آئینہ ہے۔ آپؐ کا رُوئے انور اتنی حقیقت ہے کہ خواب میں بھی نظر آئے تو عین حقیقت ہے۔ جس نے آپؐ کے چہرے کو دیکھا، اُس نے چہرۂ حق دیکھا۔ آپؐ کے چہرے کے لیے پیر مہر علی شاہؒ فرماتے ہیں:
سُبحان اللہ ما اَجمَلَکَ ما اَحسَنَکَ ما اَکمَلَک
آپؐ کا چہرۂ مبارک دیکھنے کے لیے اگر اللہ آنکھ عطا فرمائے تو بات ہے، ورنہ ہر آنکھ کی رسائی آپؐ کے چہرے کی رعنائی تک کہاں؟
ہر مسلمان کی مرتے وقت آخری خواہش یہی ہوتی ہے کہ”میرے مولا!مجھے آپؐ کا چہرہ دکھا۔ رحمت، شفقت، انوار سے بھرا ہوا چہرہ، جو موت کی کربناکیوں سے محفوظ فرمائے۔“