وہ وقت قریب آ گیا ہے،  جب اِنسان کو اپنے اعمال کے نتیجے سے دوچار ہونا ہے۔ عجب بات ہے کہ ہم زندگی بھر کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ مجبور ہیں، اِس لیے ہم مصروف ہیں اور پھر یہ مصروفیت ایک نتیجہ مُرتب کرتی ہے۔ ایک نتیجہ نہیں، دو نتائج۔ ایک ظاہری نتیجہ اور ایک باطنی یا ما بعد کا نتیجہ!

کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے کہ اِنسان نتیجہ حاصل ہونے پر گھبرا جاتا ہے کہ اُس نے جو چاہا تھا،  وہ تو نہیں ملا۔ اُس نے جو سوچا تھا، نتیجہ اُس کے علاوہ ملا۔ اگر نتیجہ سوچ کے مطابق بھی ہو،  تب بھی اِس نتیجے سے ایک نیا عمل پیدا ہوتا ہے اور یہ عمل اِنسان کے لیے مشکلات پیداکرتا ہے اور جب آرام نصیب ہوتا ہےتو ساتھ ہی بیماری کا حملہ شروع ہو جاتا ہے۔  بیماریاں مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔  بہرحال محنتی آدمی کا آرام میں داخلہ بے آرامی پیدا کرتا ہے۔مضطرب اِنسان جب سکون میں آتا ہے تو اسے ایک عجیب قسم کے اضطراب کا سامنا ہوتاہے۔

اِنسان زندگی کے سکون کی خاطر شادی کرتا ہے اور شادی اُس کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔  شادی کا لفظ ہی خوشی کا مترادف ہے اور اگراِس کے نتائج اور اِس کی تفسیر اپنے معنی کے برعکس نکل آئے،  تو اِنسان اپنے آپ کو ابتلا میں محسوس کرتا ہے۔ شادی ایک ایسا تجربہ ہےجس سے اِنسان فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ شادی اور محبّت اگر الگ الگ اِنسانوں سے ہو تو ایک طُرفہ عذاب ہے۔ اِنسان اِس عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ فرض اور شوق کا تصادم ہی اِبتلا ہے۔  زندگی اِنسان کو مبتلا ہی رکھتی ہے۔

اِنسان ناموری کے حصول کے لیے کیا نہیں کرتا۔ ناموری کی خواہش ایک کرب ہے، ایک ابتلاہے، ایک مصیبت ہے،  اور اِس مصیبت کا انجام ایک نئی مصیبت کی شکل میں حاصل ہوتا ہے۔  ناموری حاصل ہو جائے،  تو سکون حاصل نہیں ہوتا۔ جب اِنسان کو اِس حقیقت کا علم ہو جائے کہ وہ جن لوگوں میں مشہور ہے، وہ لوگ جھوٹے ہیں تو یہ ناموری ایک تہمت سے کم نہیں ہوتی۔ جھوٹے لوگوں میں پسند کیا جانے والا سچے اِنسانوں میں ناپسند ہو گا۔  ہر ناموراِنسان کسی نہ کسی طبقے میں بدنام کہلایا جاتا ہے۔

درویش دنیا داروں میں پسندیدہ نہیں ہوتا، اور دنیا دار درویشوں میں نا پسندیدہ رہتا ہے۔  سورج کی روشنی کو چمگادڑ،  اُلّو،  چور اور ڈاکو نا پسند کرتے ہیں۔ بہر حال شہرت ایک مستقل ابتلا ہے۔  جہاں اِنسانوں کی خوبیاں مشہور ہوتی ہیں، وہاں اُن کی خامیاں بھی مشہور ہونے لگ جاتی ہیں۔  ایک معمولی اِنسان کا گناہ بھی معمولی ہے،  لیکن ایک مشہور کا گناہ ایک مشہور گناہ ہوتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5