جو لوگ کمائی کی خاطر وطن چھوڑ گئے، وہ الگ رونا رو رہے ہیں، اور جو لوگ وطن میں رہ گئے ہیں، وہ الگ۔ کس نے کس کے لیے کیا کِیا؟ کوئی نہیں جانتا۔ وطن میں رہیں تو پیسہ نہیں ملتا، پیسہ ملے تو وطن نہیں ملتا۔ اِنسان کے لیے کتنا بڑا اَلمیہ ہے کہ اُس کے اپنے ہی اُسے بیگانے دیس میں بھیج دیتے ہیں اور پھر اُس کی جدائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ اِبتلا کا وقت ہے، اور یہی دُعا کا وقت ہے۔
آج کی بین الاقوامی زندگی ابتلا ہے۔ ایک نا معلوم خطرے نے سب کو مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک جنگ کا خوف، جو سب اقوام میں موجود ہے، سب کو کھا رہا ہے۔ زندگی کو آسانی دینے والے ادارے اِسے مشکلات دے رہے ہیں۔ سائنس نے زندگی کو بچایا اور سائنس ہی اِسے تباہ کرنے والی ہے۔ اِنسان ترقی میں مبتلا ہے، اور یہ ابتلا — تنزّل کی ابتدا ہے۔ لالچ نے اِنسان کو کمزور کر دیا ہے۔ خود غرضی نے اِنسان کو تنہائی کی سزا دی ہے۔
مال جمع کرنے میں اِنسان زندگی خرچ کر دیتا ہے اور آخر کار وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا دامن مال سے بھر گیا ہے، لیکن زندگی کی متاع ختم ہو گئی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ سب کچھ کس لیے کیا تھا۔ یہ ابتلا کیا تھی؟ اُس نے کیا دے کر کیا حاصل کِیا؟ زندہ رہنے کے لیے سب کچھ تھا تو زندگی کہاں گئی؟ جب وقت تھا، مال نہیں تھا۔ اب مال ہے، وقت نہیں ہے۔ وہ حیرت سے دیکھتا ہے، اپنے آپ کو، اپنی ناعاقبت اندیشیوں کو، اپنے ماضی کو، اور اپنے نا معلوم مستقبل کو۔ رات آئے تو کرنیں یاد آتی ہیں۔
اِنسان ایک اور مر ض میں بھی مبتلا ہے۔ خدائی کرنے کی خواہش نے اُس سے اِنسانیت بھی چھین لی ہے۔ جو اِنسان نہ بن سکا، وہ اور کیا بنے گا! ہر آدمی بھاگے چلا جا رہا ہے۔ کیا قیامت آنے والی ہے؟ کچھ عذاب نازل ہو رہا ہے؟ اِنسان کے پاس مصروفیت ہے، فرصت نہیں۔ اُس کے پاس وقت نہیں ہے۔ خوشی ملے تو ہنسنے کا وقت نہیں۔ غم ملے تو رونے کا وقت نہیں۔ کوئی مر جائے، جنازے میں شامل ہونے کا وقت نہیں۔ عذاب تو یہ ہے کہ اُس کے پاس اپنی ذات کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔ وہ اپنے کام میں مبتلا ہے۔ کام، کام اور صرف کام۔ یہ کام کس کام کا، جب اِس کے انجام ہی کا پتہ نہیں۔ اِنسان جلدی میں ہے، عجلت میں ہے۔ وہ ابتلا میں جکڑا ہوا ہے۔ آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو پاؤں تلے کی زمین نکل جاتی ہے، زمین کی طرف دیکھتا ہے تو سر پر آسمان گرنے کا خطرہ لاحق ہے۔ اِنسان کیا کرے!!
اِنسان مسیحا بننے کی بیماری میں مبتلا ہے اور یہ مسیحائی اُس کے اپنے کام بھی نہیں آتی۔ وہ دوسروں کے حالات درست کرنا چاہتا ہے اورخود گردشِ حالات میں ہے۔ جب وہ آلامِ روزگار میں گھِر جاتا ہے تو بے بس ہو کر ہتھیار ڈال دیتا ہے، اور یہ دنیا پہلے کی طرح سے قائم و دائم رہتی ہے۔