ہر اِنسان اپنے دائرہِ کار میں مبتلا ہے۔ اپنے پیشے کے حصار میں جکڑا ہوا ہے۔ اِنسان مصروف ہے، ایک نامعلوم منزل کی طرف سفر کرنے میں، اور یہ سفر کبھی رُکتا نہیں۔ بڑی اذیّت کا سامنا ہے۔ آدمی کا دل بہت بڑا ہے اور اِس دل پر بڑے مصائب ہیں۔
خوشی حاصل کرنے والا غم بھی سمیٹتا جا رہا ہے۔ حاصل اور محرومی اِنسان کے لیے ہیں اور اِنسان اِن کے حصول میں مبتلا ہے۔ مرتبہ، مقام اور دولت کی خواہش اِنسانی زندگی کو گُھن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔
اِنسان اِنسانوں پر حکومت کرنے کی خواہش سے مجبور ہے، بے بس ہے۔ حکومت کرنے کی خواہش کا غلام بڑی اِبتلا میں ہوتاہے۔ اِنسان تو خدا کی عزت بھی نہیں کرتے، حاکم کی کیا پرواہ کریں گے۔ حکومت کرنے کی خواہش نے بڑے بڑے لوگوں کو غلامی میں مبتلا کر دیا۔ حکمرانی کی خواہش جنگ کی ہولناکیوں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر جنگ کا نتیجہ، یا حکومت یا غلامی۔
علم کا متلاشی ایک نئی ابتلا میں ہے۔ ماضی کے مطالعہ سے مستقبل کو روشن کرنا چاہتا ہے۔ شیکسپیئر کی اپنی تعلیم نہ تھی۔ اُسے فطرت نے علم دیا۔ آج کے سکالر کی اذیّت یہی ہے کہ وہ فطرت سے کٹ کر علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بڑا مرحلہ ہے، یہ خوفناک اذیّت ہے، ابتلا ہے۔
اِس اِبتلا کے المیہ کا اجمال یہ ہے کہ ایم اے ادبیات میں اُن لوگوں کی کتابوں کو پڑھایا جاتا ہے جو خود تعلیم یافتہ نہ تھے۔ غالؔب کا شعر سند ہے لیکن غالؔب کے پاس سند نہیں ہے۔ وارث ؔ شاہ نے پنجابی زبان کا ایم اے نہ کیا لیکن اُس کے بغیر پنجابی کا ایم اے نہ ہوگا۔ اِنسان کس غلط فہمی میں مبتلا ہے؟ وہ کیا پڑھ کے کیا بننا چاہتا ہے؟