ڈاکٹر مریضوں کو موت سے بچاتے بچاتے خود موت کے مُنہ میں پہنچ جاتے ہیں۔  دل کے امراض کا ماہر دل کے عارضے سے مرتا ہے۔ تعجب ہے، ابتلا ہے۔

در اصل ہر اِنسان ایک عجیب صورت ِ حال سے دوچار ہے۔  ایک عجیب بیماری لاحق ہے۔  ایک مہلک مرض میں اِنسان مبتلا ہے۔ مہلک مرض وہ ہوتا ہے جس کاانجام موت ہو،اور یہ مرض زندگی کا مرض ہے۔ اِس کا انجام موت ہے۔

موت سے بچنے کی کوششوں نے ہی اِنسان کو ہلاک کر دیا ہے۔ حاصل کی کوشش نے اِنسان کو محروم کر کے رکھ دیا ہے۔  خوشی کی تلاش غم تک لے آتی ہے۔  آرام کی تمنّا میں انسان بے آرام ہے۔  سکوں کی آرزو   ہی اضطراب کا باعث ہے۔  اِنسان کیا کرے ! ابتلا میں گھرا ہوا
بے بس اِنسان!    اِنسان کو اُس کی خواہش نے قید کر رکھا ہے —  نہ وہ خواہش چھوڑتاہے،  نہ قید خانے سے رہائی ہوتی ہے۔  کچھ لوگ گھروں میں قید ہیں اور خوش ہیں کہ اُن کے فرائض اَدا  ہورہے ہیں۔ کچھ دُکانوں میں قید ہیں۔  سامان فروخت کرنے کی آرزو میں عمر بھی فروخت ہو رہی ہے۔ چھوٹی سی دُکان میں بڑی زندگی کٹ جاتی ہے اور اِنسان خوش ہے کہ اُ س نے بہت کمایا۔ کیا کمایا اور کیا لُٹایا،  کسے خبر ہے !کچھ لوگ دفتر میں مقیّد ہیں۔ وقت پر آنا، وقت پر جانا اور ہر وقت ایک خاص عمل میں مصروف رہنا، اُن کی ابتلا ہے۔

افسری کی خواہش ایک مصیبت بن کر رہ گئی ہے۔ افسر شاہی کی اِبتلا کے لیے کوئی راہِ نجات نہیں۔  اپنے آپ کو بلند سمجھنے کے خیال نے ہی انھیں پست قامتی عطا کی ہے۔

اِنسان اور اِنسان کے درمیان جو خلیج حائل ہے، وہی ابتلا ہے۔  ایک مبتلا،  دوسرے مبتلا کی بات نہیں سمجھ سکتا۔ ہر آدمی اپنا رونا رو رہا ہے، اِس لیے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5