اضطراب باعث ِ ہستی ہے اور حاصلِ ہستی بھی۔ ہر زندہ اِنسان مضطرب ہے۔  کائنات کا ذرّہ ذرّہ تڑپ رہا ہے۔ موجوں کا اضطراب تلاطمِ قُلزم ہے اور یہی سمندر کی ہستی ہے۔  اضطراب ہی زندگی کو متحرک رکھتا ہے اور یہی تحریک، یہی حرکت،  ہستی کا ثبوت ہے۔
بے حرکت زندگی، نباتات کی زندگی ہے۔

زندگی کا بیشتر حصہ وقفِ اضطراب رہتا ہے۔ انسان کی آرزوئیں، اُس کی خواہشات،  اُس کے تقاضے، اُس کے منصوبے اور اُس کے عزائم اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ اِن سب کا بیک وقت حصول نا ممکن ہے۔ جب خواہشات دم توڑتی ہیں تو اِضطراب پیدا ہوتا ہے۔

 اضطراب اِس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ انسان کئی راستوں میں سے کسی ایک راہ کا انتخاب نہیں کر سکتا۔  قوّتِ فیصلہ کی کمزوری انسان کو تذبذب میں ڈال دیتی ہے اور انجامِ کار وہ مضطرب رہنے لگتا ہے اور پھر انسان کا اضطراب اُس سے سوچنے کی صلاحیت بھی چھین لیتا ہے۔

انسان علم حاصل کرتا ہے عمل کے لیے، لیکن جوں جوں علم پھیلتا ہے،  عمل کے مواقع سمٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔ آج کے انسان کا سب سے بڑا عمل، حصولِ علم ہے اور یہ عمل اُس کو فرائض کی بجا آوری کے عمل سے بہت دُور کر دیتا ہے۔ نتیجہ اضطراب ہے۔  سڑک کے کنارے کمرے میں بیٹھ کر زندگی کا مفہوم سمجھنے والا اُس زندگی کو بھی نہیں سمجھ سکتا،  جو سڑک پر سے گزر رہی ہے۔ علم اور عمل کے فرق سے اضطراب پیدا ہوتا ہے۔

انسان کی کوشش جب متوقع نتیجہ حاصل نہیں کرتی تو وہ مضطرب ہو جاتا ہے۔  پھولوں کے خواب دیکھنے والا اپنے دامن میں خار دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔ خواب کی اُونچی اُڑانیں ہستی کو پستی سے نکال نہیں سکتیں۔ انسان کی آرزو جب حسرت بن جائے اور اُس کا حاصل لا حاصل ہو کے رہ جائے تو اُس کا مضطرب ہونا بجا ہے۔ اپنے جب اجنبی بن کر پاس سے گزر جائیں تو انسان کیا کرے؟وہ مضطرب ہو گا، بے قرار ہو گا، بے چین ہو گا۔

Pages: 1 2 3 4 5