یہ دَور بڑے کرب سے گزر رہا ہے۔ اذیّت اور تنہائی انسان کی رُوح تک جا پہنچی ہے۔ انسان کو اندر سے گھن لگ چکا ہے۔ چہروں کی نقلی مسکراہٹ ضبطِ غم کے سِوا کچھ نہیں۔ آج کا اضطراب اس لیے ہے کہ زندگی کو تقویت دینے والے ادارے ختم ہوتے جا رہے ہیں، لیکن یہ اضطراب ایک نئے جہاں کے پیدا ہونے کی بشارت بھی رکھتا ہے۔ آج کا اضطراب کسی وقت کروٹ لے سکتا ہے اور ایک بار پھر وہی جذبے کار فرما ہو سکتے ہیں جو آج سے چالیس سال پہلے ظاہر ہوئے تھے۔
اضطراب بے سبب نہیں ہوتا۔ اضطراب بھُولا ہوا سبق، چھوڑی ہوئی منزل اور نظر انداز کیے ہوئے فرائض یاد دلاتا ہے، اور اس طرح پیدا ہونے والا احساسِ غفلت بیداری کی اوّلیں کرن ہے۔
جو لوگ دُنیاوی اشیاء اور ضروریات کے حصول کے لیے مضطرب کہلاتے ہیں، وہ دراصل مضطرب نہیں، وہ تکلیف میں ہوتے ہیں، اور تکلیف اور شے ہے اور اضطراب اور چیز۔ تکلیف کمی سے ہوتی ہے، اضطراب کوتاہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اضطراب رُوح کی بے تابی ہے، اور تکلیف ذہن اور جسم کی پریشانی۔
جب انسان کا حق اُس کی دسترس میں نہ ہو تو اضطراب پیدا ہو گا۔ جس زمانے میں انسان کو اپنی ضروریات کے حصول کے لیے دُعا کے علاوہ کوئی چارہ میسرنہ ہو، وہ زمانہ اضطراب کا زمانہ ہے۔ آج کا عصری کرب انسان سے ذوقِ حیات بھی چھین رہا ہے۔ آج کے انسان کی ضروریات کے پاؤں اُس کے وسائل کی چادر سے باہر ہیں۔ غریب کو امیر ہو جانے کی اُمّید نے سہارا دیا ہوا ہے، لیکن امیر کو غریب ہونے کے ڈر نے مضطرب رکھا ہوا ہے۔ دولت مند انسان کو دولت نے اضطراب سے نہیں بچایا۔ دولت اضطراب سے نہیں بچا سکتی۔ دولت کا پرستار ہمیشہ بے قرار رہے گا۔
بعض اوقات آنے والی ناگہانی آفات و بلیّات بھی قبل اَز وقت اضطراب پیدا کرتی ہیں۔ زلزلے سے پہلے جانور اور پرندے مضطرب ہو جاتے ہیں۔ اندیشہ اضطراب کا ہم سفر ہے۔ ہمارے ہاں سرحدوں کے حالات اتنے خوش کن نہیں کہ اضطراب پیدا نہ ہو، لیکن یہ وہ اضطراب ہے جس کا حل ہمارے پاس نہیں۔ دشمنانِ اسلام متحد ہیں اور مسلمان متحد نہیں۔ دوستوں کی لاپرواہی دشمن کی اصل قوّت ہے۔ ہم لوگ وحدت ِ فکر اور وحدتِ کردار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔