اگر اضطراب برداشت سے بڑھ جائے تو طرح طرح کی میڈیکل پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔  اضطراب کو مایوسی نہ بننے دیا جائے تو انسان بدلے ہوئے حالات سے گھبراتا نہیں۔  کچھ لوگ اضطراب میں چراغِ آرزو بجھادیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے خود کو ایک کرب میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اضطراب کو تحریک بناتے ہوئے نئی راہیں دریافت کر لیتے ہیں اور اِس طرح پُرانے ڈھانچوں پر نئی تعمیر اُستوار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دراصل اضطراب کا مسکن”ہونے اور نہ ہونے“ کے درمیان ہے۔  جانے والے زمانے کی یاد میں آنے والے زمانے کا انتظار بھی تو شامل ہوتا ہے۔  اضطراب اِس اَمر کا اعلان ہے کہ ایک دَور ختم ہو گیا اور دوسرا دَور جنم لینے والا ہے۔  مضطرب انسان منتشر نہیں ہوتا۔ مضطرب آدمی وجۂ اضطراب سے بہرحال باخبر ہے، جبکہ منتشر انسان وجۂ انتشار سے بے خبر ہے۔

اضطراب ایک قوت ہے، تشخص کا ایک مقام ہے، پہچان کا ایک زاویہ ہے،  شخصیت کا ایک پہلو ہے۔ مضطرب قومیں اپنے لیے نئے سُورج تراش لینے میں اکثر کامیاب ہوتی ہیں۔

 اضطراب ہی مجاز سے حقیقت کا راستہ دکھاتا ہے۔ اِنقباض سے نکل کر اِنبساط میں داخل ہونے کا اوّلیں سگنل اضطراب ہے۔ عہد ِ رفتہ کے مرثیے اور عہد ِفردا کے قصیدے کے درمیان اضطراب گنگناتا ہے۔

اضطراب میں رہنے والے بڑے تخلیق کار ہوتے ہیں۔ اضطراب شب بیداری کا پیغام ہے اور کامیابی کا زینہ ہے۔ اضطراب سوز ہے اور یہی سوز جوہرِ تخلیق ہے۔

آج کی زندگی میں ایک گھٹن ہے، ایک حبس ہے۔ آج کی زندگی خود غرضی کی زندگی ہے۔  کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔ کسی کو کسی سے ہمدردی تو خیر دُور کی بات ہے،  دلچسپی ہی نہیں۔ ظاہر کی رونقیں باطن کی وحشتوں سے خوفزدہ ہیں۔ ہر طرف انسانوں کی بھیڑ ہے اور اِس بے پناہ ہجوم میں کوئی انسان نظر نہیں آتا۔ بد اعتمادی کے اِس عہد میں ہر شخص مضطرب ہے، سرگرداں ہے، پریشان ہے، بے قرار ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایک وبا پھیل چکی ہے،
بے چینی کی وبا، بے بسی کی وبا، بے حسی کی وبا، بے کسی کی وبا، بے یقینی کی وبا، بے مروّتی کی وبا،  بے حیائی اور بے وفائی کی وبا، ہر حساس آدمی کو معاشرتی انحطاط مضطرب کر رہا ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5