آج ہمیں بیک وقت اقبالؒ اور جناحؒ کی ضرورت ہے۔ آج کوئی جگانے والا چاہیے۔ کوئی چلانے والا چاہیے تا کہ شمعٔ حُریّت ہر طوفان سے محفوظ رہے۔ آندھیاں اور آگہی کے چراغ برسرِ پیکار ہیں۔ آج قوم کو عہد ِکہن تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔
صرف بزرگوں کی یاد منانے سے بزرگوں کا فیض نہیں ملتا۔ بزرگوں کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے بات بنتی ہے۔ ذکر ِ بہار تو فصل ِ بہار نہیں۔ آج کا اضطراب تو عمل سے دُور ہو گا، مسلسل عمل۔
دریا کا مقصد اگر وصالِ بحر ہے تو یہ منزل صرف سمندر کے نام کا وظیفہ پڑھنے سے نہیں حاصل ہوتی۔ دریا کا اضطراب اس کی قوّت ہے، اس کی روانی ہے۔ وہ اضطراب میں پہاڑوں کو کاٹتا ہے، میدانوں سے راستہ لیتا ہے اورایک طویل جدوجہد کے بعد آغوشِ قُلزم میں راحت و سکون حاصل کرتاہے۔ اضطراب کو روانی بنانے والا دریا آسودۂ منزل ہوتا ہے۔ قوموں کا سفر دریا کے سفر کی طرح ہے۔ موجوں اور قطروں کی ایک عظیم وحدت اپنی منزل کی طرف رواں دواں، انجامِ کار بحرِ بے کنار سے ہم کنار ہوتی ہے۔
قوم کے افراد اگر وحدت کے تصوّرسے محروم ہو جائیں تو اُن کا اضطراب انھیں مایوس کر کے ہلاک کر دیتا ہے۔ اگر وحدت قائم ہو جائے تو یہی اضطراب یم بہ یم منزلِ مقصود ہے۔
انفرادی اضطراب کو اجتماعی فِکر میں ڈھالنے والا ہی قوم کا رہنما ہوتا ہے۔ میرِ کارواں وہی ہے جو افرادِ کارواں میں یکجہتی، یک سمتی، یک نظری پیدا کرے۔ قوم میں وحدتِ فکر پیدا ہو جائے تو وحدتِ عمل منطقی نتیجہ ہے۔ یعنی اقبالؒ مل جائے تو جناحؒ کا ملنا لازمی ہے۔ آج کے اضطراب کو چینل درکار ہے۔ اضطراب تلاشِ عمل کا نام ہے اور عمل، علم کی وضاحتوں سے نجات کا نام ہے، لیکن یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اضطراب زیادہ دیر تک منتظر نہیں رہ سکتا۔ اُسے بہر حال کچھ کرنا ہے، اچھا یا بُرا۔ اضطراب کو اُمید میسّرنہ ہو ئی تو مایوسی اُس کا نصیب۔