یہ کائنات جہاں آئینۂ جمال ہے، وہاں یہی کائنات مظہرِ صفاتِ الٰہیہ اور مظہرِ صفاتِ اِنسانیہ ہے۔ کائنات میں رُونما ہونے والا ہر واقعہ،  ہر عمل اور ہر کرشمہ اِنسان کی داخلی اور ذاتی کائنات میں منعکس ہوتا ہے۔  سیّاروں اور ستاروں کی چال اور رفتار سے لے کر ایک معمولی سی حقیر چیونٹی تک، ہر شے اپنے اندر ایک عجب پیغام رکھتی ہے۔  ہر شے ایک علامت ہے،  خوبصورت علامت اور ہر شے میں ایک اِستعارہ ہے، ایک با معنی اِستعارہ!

یہ کائنات مرقّعِ نُور ہے۔ اِس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کہکشاؤں کے عظیم اور وسیع سلسلے،  شمس و قمر کے جلوے، چمکنے والے ستاروں کی یہ حسین کائنات اتنی منو ّر ہے کہ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اِس کو تخلیق کرنے والا خود زمین اور آسمانوں کا نُور ہے۔  اتنی روشن کائنات ایک روشن دلیل ہے، اپنے نورانی خالق کی!

اگر ذوقِ نظر میسّر ہو تو یہ کائنات ایک عجب تماشا ہے۔ کرنوں میں آفتاب ہیں، قطروں میں بحر ہیں،  دریا حباب میں ہے، ذرّوں میں دشت ہیں۔ دیکھنے والی نظر ہو، تو نظاروں کی کمی نہیں۔

اِس کائنات کی وسعتوں کے بارے میں جو کچھ بھی کہہ دیا جائے،  بلا مبالغہ ہو گا۔  ہم ایک سورج سے وابستہ ہیں اور اِس کائنات میں ایسے کروڑوں سورج موجود ہیں۔ ایسے سیّارے اور ستارے دریافت ہو چکے ہیں  جن کا زمین سے فاصلہ ہزاروں لاکھوں”سالِ نُور“ ہے،  یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلنے والی روشنی ایک ستارے سے زمین پر آنے میں لاکھوں سال لیتی ہے۔  اللہ اللہ! یہ وسعت —  اِنسان سوچ کر ہی سہم جاتا ہے۔ اِس وسیع کائنات میں زمین کی کیا حیثیت، اور زمین میں ایک مُلک کی کیا اہمیت،  اور مُلک میں ایک شہر،  اور شہر میں ایک مکان، اور مکان میں ایک اِنسان کی کیا اہمیت،  اور پھر اِس اِنسان میں ایک چھوٹا سا دماغ کیا جسارت کرے گا  اِس وسیع کائنات کے عظیم خالق کے بارے میں لب کشائی کرنے کی۔ مقامِ تحیرّ اور مقامِ سکوت ہے۔

اِسی کائنات میں ایسے علاقے ہیں جہاں اِتنی سردی ہے کہ بس اِنسان ذکر کرے تو خیال منجمد ہو جائے اور کہیں اِتنی حِدّت کہ سُورج بھی پناہ مانگے۔ یہ کائنات عجب ہے۔  تخلیق اپنے خالق کی مظہر ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7