جس خالق نے اِس کائنات کو تخلیق کا حیران کُن مظہر بنایا،  اُسی خالق نے اِنسان کو بڑے دعوے اور وثوق سے اشرف المخلوقات پیدافرمایا۔  یہ ایک عظیم احسان ہے،  عظیم مُحسن کا۔  اِنسان کو بینائی عطا فرمانے والا، اپنے بے مثال حُسن کے پَرتَو میں اِس کائنات کی ہمہ رنگ نیرنگیوں اور رنگینیوں میں جلوہ گر ہے۔

اِنسان کی پہچان کے لیے کائنات کو آسمان اور زمین کے حوالے سے ظاہر فرمایا گیا۔  اِنسان اپنی ہستی کا سفر زمین پر ہی شروع کرتا ہے اور یہ سفر یہیں تمام ہوتا ہے۔  اِنسان کے گِرد پھیلی ہوئی زندگی اس کے علم کے وسیع ابواب ہیں۔  اسے علم الاسماء عطا فرمایا گیا۔ وہ اسماء سے اشیاء کو پہچانتا ہے اور پھر اشیاء سے مفاہیم تلاش کرتا ہے اور اسے ہر طرف پھیلے ہوئے سلسلے،  اپنی صلاحیتوں اور صفات کے اِستعارے نظر آتے ہیں۔ اِنسان کی کائنات حسین و جمیل علامتوں کی کائنات ہے۔

یہی وہ راز ہے،  جو اِنسان کو جاننے والا بناتا ہے۔  اِنسان ظاہر سے باطن اور باطن سے ظاہر کا سفر کرنے کے لیے پیدا کیا گیا۔ وہ وجوہ سے نتائج اور نتائج سے وجوہ تلاش کرتا ہے۔  وہ ہر شے کے اندر پنہاں اُس جوہر کو ڈھونڈتا ہے، جو اُس شے کی پہچان ہے، اُس شے کا راز ہے —  اور یہ راز،  اور یہ جوہر،  اور یہ صفت،  اِنسان کی اپنی کسی صفت کا مظہر ہوتی ہے۔

شعر و ادب کی دنیا میں اِنسان نے مظاہرِ فطرت کو اِستعاروں اور علامتوں کے رُوپ میں شامل کیا ہے اور اِس طرح اُس نے جہاں اپنی زندگی کو پُر لطف بنایا، وہاں اُس نے ہر ذی جان اور بے جان شے کو اِسم دیا اور اُس کو معنی عطا کیے۔

پہاڑوں کو اِنسان نے اپنے عزم کا مظہر کہا —  نہ بدلنے والا اٹل اِرادہ،  پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے نہ ہلنے والا۔  اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا کہ پھر تمہارے دل سخت ہو گئے،  جیسے وہ پتھر ہوں، حالانکہ مَیں نے پتھروں سے بھی نہریں جاری کی ہیں۔  گویا پتھر سے دریا کا نکلنا ایسے ہے جیسے سخت دل اِنسان کا دِل بھر آنا یا آنکھ سے آنسو کا بہنا۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7