جہاں شیر دلیر ہے،  وہاں گیدڑ بزدل،  لومڑی مکّار،  سانپ چھپا دشمن ہے — چمکیلا لیکن زہریلا۔ سانپ کبھی وفادار نہیں ہوتا۔

وفا کے باب میں کُتے اور گھوڑے کا ذکر آتا ہے۔  کُتا اگر کُتے کا بَیری نہ ہوتا تو کبھی نجس نہ ہوتا۔  گھوڑے کو لٹریچر میں بڑا حصہ ملا ہے۔ غالؔب نے دو اشعار میں گھوڑے کو زندگی اور موت سے تعبیر کیا ہے — زندگی کا سرکش گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا ہے، اِنسان سوار تو ہے لیکن بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ہاتھ باگ پر ہے، نہ پاؤں رکاب میں۔ اِنسان کا ایک پاؤں ہوس کی زمین میں گڑا ہو ا ہے اور دوسرا پاؤں موت کے گھوڑے کی رکاب میں ہے۔ زندگی اور موت کو بیان کرنے کے لیے گھوڑے سے کیا فائدہ اُٹھایا گیا ہے۔ غرض یہ کہ ہر جانور، ہر پرندہ،  ہر شے اِنسان کے لیے معنی رکھتی ہے۔  اِنسان غور کرے تو یہ کائنات علم کے وسیع خزانوں سے مالامال نظر آئے گی۔ اِنسان کو اپنا پرتَو اور اپنے خالق کاجلوہ اِسی کائنات میں نظر آئے گا۔

یوسف ؑ کے خواب میں آنے والے گیارہ ستارے، چاند اور سُورج اُن کے اپنے بھائی اور ماں باپ تھے۔ سبحان اللہ!یہ علم اُس نے خود عطا کیا ہے  جس نے اِنسان کو شاہکارِ تخلیق بنایا۔  اِنسان کو شرف بخشنے والے نے اِنسان کو علم عطا کیا —  کائنات کا علم،   کائنات کی اشیاء کا علم،  کائنات کی زندگی اور اس کے حُسن کا علم!

یہ کائنات آئینہ ہے،  اِنسان کی اپنی کائنات کا۔  ہر طرف اِنسان کی اپنی صفات پھیلی ہوئی ہیں۔  اِنسان غور کرے تو اُسے معلوم ہو گا کہ یہی کائنات اِنسان کا باطن ہے اور اِنسان اِس کائنات کا باطن۔  یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ حقیقت ہی حقیقت ہے،  معنی دَر معنی،  اِستعارہ دَر اِستعارہ،  علامت دَر علامت!

اِنسان کی کائناتِ حُسن،  حُسنِ کائنات کا خوبصورت عکس ہے۔  ”چاند “ محبوب ہے اور چاندنی محبوب کی یاد۔ چاند دُور ہو تو چاندنی پاس ہوتی ہے۔ چاند پاس ہوتو چاندنی ختم ہو جاتی ہے۔  پھول دِل میں بسنے والا دوست ہے اور کانٹا آنکھوں میں کھٹکنے والا رقیب۔

Pages: 1 2 3 4 5 6 7