دریا کو زندگی کا دریا کہا گیا، جو موت کے سمندر میں ڈوبتا ہے۔ ہر دریا آخر کار تاریک سمندر میں گر جاتا ہے۔ وقت دریا ہے اور لوگ تنکوں کی طرح اِس میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔
دشت و صحرا کو بھی عجب معنی ملے۔ دشت ِ جنوں، دشت ِ وحشت، یادوں کا صحرا، وچھوڑے کا تھل، دشت ِ فرقت اور پھر صحرا کی پیاس — یہ سب اہلِ ذوق کے پُرمغز اِستعارے ہیں۔
سمندر کو ہستی کا آغاز و انجام کہا گیا۔ اِنسان بادلوں کی طرح سمندر سے آتا ہے اور واپس سمندر کو چلا جاتا ہے کہ یہی اُس کا گھر ہے، یہی خالق ہے یا مظہرِ تخلیق ہے۔
سمندر یا قلزم سے بڑے معنی وابستہ ہیں۔ بڑے اِستعارے ہیں، بڑی علامتیں ہیں۔ سمندر رُوح ہے۔ نصف شب کو جاگتا ہے۔ طوفان میں ہو تو کناروں کو اُڑا دے، پُر سکون ہو، تب بھی گہرائی کی وجہ سے پُر خوف ہو۔ سمندر مُردار کو باہر نکال پھینکتا ہے۔ اِسکے باطن میں خزانے ہیں، موتیوں کے، زندگی کے اور اِس کے اندر اِنسان کے لیے بڑے علوم ہیں۔ جب تک سمندر زندہ ہے، زندگی ختم نہیں ہو سکتی۔ سمندر گہرا ہے، کڑوا ہے۔ ناقابلِ تسخیر وسعت کو سمندر کہا گیا۔ فیاضی اور علم کے پیکر کوسمندر کہتے ہیں۔ قلزمِ رحمت، وسیع و بے پایاں، صفت ِ الٰہی ہے — اور پھر سمندر خاموش ہو گیا یعنی محبّت کی امواج میں ٹھہراؤ کا مقام۔ موج کے نام سے کتنا ہی لٹریچر موجود ہے۔
آئیے دیکھیں! اِنسان نے اپنے گرد رہنے والے جانداروں سے کیا حاصل کیا۔ انھیں کیسے کیسے معنی دیے۔ اُن سے کیا کیا سبق، عبرت اور نتیجے نکالے!