کبوتر اور فاختہ امن کے نشانات ہیں۔ یہ صلح اور اَمن کے اِستعارے ہیں۔  طوطا ایک ایسا پرندہ ہے جس پر بڑے بڑے ادیبوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ مولانا رُومؒ نے ایک طوطے کی کہانی لکھی ہے کہ ایک سوداگر نے پنجرے میں ایک بولنے والا طوطا رکھا ہوا تھا۔  سوداگر سفر پر جانے لگا تو اُس نے طوطے سے پوچھاکہ تیری کوئی خواہش؟  طوطے نے اپنے گُرو طوطے کو پیغام بھیجا کہ آزاد فضاؤں میں رہنے والو! غریب قیدی کا سلام قبول کرو۔  سوداگر نے پیغام دیا۔
گُرو طوطا سُن کر مر گیا اور ساتھ ہی سارے طوطے گر کر مر گئے۔  سوداگر نے یہی افسوسناک خبر اپنے طوطے کو آ کر بتائی، وہ بھی مَر گیا۔ سوداگر نے اسے پنجرے سے نکال کر پھینک دیا۔  وہ طوطا اُڑ گیا اور بولا: ”اے سوداگر!میرے گُرو نے میری فریاد پر مجھے رہائی کا یہی راستہ بتایا تھا کہ مرنے سے پہلے مر جاؤ،  آزاد ہو جاؤ گے۔ “ پس! یہ ہے وہ راز جو گُرو مُرید کو دیتا ہے۔ بہرحال طوطا،  علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

                  ایک معمولی سا کوّا بھی لٹریچر کا حصّہ بن گیا۔ ”کاگا“ ایک پیغام ہے،  کسی آنے والے کا۔   ”کاگا“ اَٹریا پر بولتا ہے۔ ”کاں“ بنیرے پر بولتا ہےاور پھر پردیسی گھر آ جاتے ہیں۔  کوّا منافق نہیں،  اندر باہر سے کالا ہے جبکہ بگلا منافق ہے۔  باہر سے سفید اور اندر سے بدباطن۔  مچھلی کے انتظار میں مصروفِ عبادت نظر آتا ہے۔ قُمری،  تیتر او رچکور،  آوازوں کے اِستعارے ہیں۔ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے لوگ ان آوازوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔

مور،  نفس کا وہ مقام ہے جہاں اِنسان اپنے رنگ پر ہی مست ہو جائے۔  ظاہر پرست اِنسان مور ہے،  اَنا کا مارا ہُوا۔

اِسی طرح جانوروں میں شیرکو لیں۔  اللہ کا شیر،  یعنی اسد اللہ۔ ایک مقام ہے،  ایک صفت ہے،  ایک انداز ہے،  ضربِ یدُاللّٰہی کا۔ شیرِربّانی ایک لقب ہے،  ایک رُوحانی مقام ہے۔ شیر خواب میں نظر آئے تو رُوحانی فیض کی دلیل ہے۔  شیر بے باکی اور جرأت کا مظہر ہے۔

ع          اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی

Pages: 1 2 3 4 5 6 7