اللہ کے دوستوں اور خاص بندوں کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ اُن کے ہاں خوف اور حُزن نہیں ہوتا۔  اللہ کے دوست نیّت کی پاکیزگی کے بغیر کوئی عمل نہیں کرتے۔ اُن کے اعمال اچھی نیّات کی وجہ سے درست ہیں۔

نتیجے سے بے نیازی ہی خوف سے بے نیازی ہے۔ اندیشہ ہماری خواہش کے برعکس کسی نتیجے کا امکان ہے۔  جب خواہش خوش نیّت ہو تو کسی بھی قسم کا نتیجہ خوف پیدا نہیں کر سکتا۔  جب خواہش بد نیّت ہو تو کسی بھی قسم کا نتیجہ خوف سے نہیں بچا سکتا۔

اللہ کے دوستوں کو ملال نہیں ہوتا۔ کسی شے کے کم ہونے یا گُم ہونے سے ملال پیدا ہوتا ہے۔  اگر انسان اپنے کسی حاصل پر ہمیشہ قابض رہنے کی خواہش نکال دے تو ملال پیدا نہیں ہو گا،  مثلاً اپنے حسن،  اپنی جوانی کو ہمیشہ قائم رکھنے کی لا حاصل خواہش نہ کی جائےتو کبھی ملال نہیں ہو گا۔  خوف اور حُزن، حاصل کو مستحکم بنانے کی خواہش اور کوشش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

زندگی کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی خواہش موت کے خوف سے نہیں بچ سکتی۔ زندگی صرف ماضی اور مستقبل کے سنگم کا نام ہے۔ ماضی اور مستقبل دونوں ہمارے اختیار میں نہیں،  حال پر اختیار برقرار رکھنے کی سعئ  ناکام، خوف کے سوا کچھ پیدا نہیں کر سکتی۔

خود کو محفوظ بنانے کی خواہش غیرمحفوظ ہونے کا اعلان ہی تو ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ شاید زندگی اپنے اندر گرتی رہتی ہے،  ریت کی دیوار کی طرح —  اسے کسی آندھی یا طوفان کے تکلّف کی ضرورت نہیں۔  انسان کا وجود اور اِرادہ اندر سے مفلوج ہوتے ہیں، باہر کے موسم تو ہمیشہ وہی رہتے ہیں۔ بہاریں اور خزائیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ہم اپنے اندر بے نام اندیشے پالتے رہنے کی وجہ سے یکسر بدل جاتے ہیں، اور پھر ہمیں نہ بہار راس آتی ہے اور نہ خزاں۔  اِنسان اندر سے ٹوٹ جائے تو تعمیرِحیات کی کتابیں مدد نہیں کر سکتیں۔

Pages: 1 2 3 4 5 6