خوف، اس انسان کو اُس انسان سے آتا ہےجس کو وہ خوف زدہ کرتا ہے۔ ہمارے رُتبے اور مرتبے، اُن لوگوں میں خوف پیدا کرتے ہیں جو اِن مراتب کے خواہاں ہوں۔ ہمارے خوف کی وجہ سے وہ دل ہی دل میں ہمیں نا پسند کرتے ہیں اور پھر یہی ناپسندیدگی اُن کے چہروں پر سوالات لکھتی ہے اور اِن سوالات کو پڑھ کر ہم خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ اَمیر آدمی جب غریبوں کو ناراض دیکھتا ہے تو اُسے اِن سے خوف محسوس ہوتا ہے کہ یہ گونگا خطرہ اگر زبان کھول دے تو جانے کیا ہو جائے۔
ہر ظالم کو مظلوم سے خوف محسوس ہوتا رہتا ہے۔ ڈرنے والا ہی ڈرانے والا بن جاتا ہے۔ ہم جس دشمن سے ڈرتے ہیں، وہ بھی تو ہم سے ڈرتا ہے۔ بارڈر کے پاس ہمارا خوف پرورش پاتا رہتا ہے۔ جس نے ہمارا سکون برباد کیا، اُس کو کب چین نصیب ہوسکتا ہے۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔ اندھیرا اُجالا ایک دوسرے سے ڈرتے ہی رہتے ہیں۔
پیسے گننے اور جمع کرنے والا، غریب ہو جانے کے ڈر سے سو نہیں سکتا۔ باغی لوگ حکومت سے ڈرتے ہیں، حکومتیں بغاوتوں سے ڈرتی ہیں، اور ڈرنا بھی چاہیے۔
طلبہ اساتذہ سے ڈرتے ہیں اور اساتذہ طلبہ سے ڈرتے ہیں۔ ڈرانے والا بہرحال ڈرتا ہے۔
خوف ایک حد تک تو خیر، جائز ہے۔ خوف احتیاط پیدا کرتا ہے اور احتیاط زندگی کے تیز سفر میں ایک موزوں اور مناسب عمل ہےلیکن ایک حد سے زیادہ خوف ہو تو انسان کا سارا تشخص، اس کی ساری سائیکی (psyche)، اس کا باطنی وجود، سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خوف خون کی رنگت اور ہڈیوں کا گودا ختم کر دیتا ہے۔