خوف زدہ انسان پتّوں کی کھڑکھڑاہٹ سے ڈرتا ہے، سرسراہٹ سے ڈرتا ہے۔ وہ آنے والوں سے ڈرتا ہے، وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے، اپنے آپ سے ڈرتا ہے، اپنے ماضی سے ڈرتا ہے، اپنے حال سے ڈرتا ہے، اپنے مستقبل سے ڈرتا ہے، بلکہ اپنے پرائے یہاں تک کہ اپنے ہی سائے سے ڈرتا ہے۔ خوف اگر ایک بار دل میں بیٹھ جائے تو پھر وجہ کے بغیر ہی خوف پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ڈرے ہوئے انسان کے لیے ہر امکان ایک ٹریجڈی ہے۔ اِس کے لیے ہر واقعہ ایک حادثہ ہے۔
خوف زدہ انسان خود کو اِس بھری دنیا میں تنہا محسوس کرتا ہے۔ خوف احساسِ تنہائی ضرور پیدا کرتا ہے۔ خوف زدہ انسان کی مثال ایسے ہے، جیسے کسی وسیع صحرا میں تنہا مسافر کو رات آجائے، اور جب انسان اپنے وجود سے بے خبر ہو، اسے اپنے وجود کا احساس بھی مشکل سے ہوتا ہے۔
خوف سے بچنے کا واحد، مناسب اور سہل طریقہ یہی ہے کہ انسان میں خدا کا خوف پیدا ہو جائے۔ یہ خوف ہر خوف سے نجات دلاتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے تو ہر خوف ختم ہو جاتا ہے۔ اگرمنشائے اِلٰہی کو مان لیا جائے تو نہ زندگی کا خوف رہتا ہے، نہ موت کا، نہ امیری کا، نہ غریبی کا، نہ عزت کی تمنّا، نہ ذلّت کا ڈر — یہ سب اس کے انداز ہیں۔ وہ جو چاہے عطا کرے، ہمیں راضی رہنا ہے، ورنہ ہماری سر کشی اور خود پسندی کی سزا صرف پیسے گننے اور جمع کرنے والا‘ غریب ہو جانے کے ڈر سے سو نہیں سکتا! یہی ہے کہ ہمیں اندر سے دبوچ لیا جائے۔ ظاہر کے جسم میں تو کوئی خراش نہ ہو لیکن اندر سے باطنی وجود قاش قاش اور پاش پاش ہو چکا ہو۔
جب زمین والوں کی بد اعمالیاں حد سے بڑھ جائیں تو آسمان سے عذاب کا دیباچہ خوف کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔ ممالک، حکومتیں، معاشرے، تہذیبیں، افراد، غرض یہ کہ ہر ذی جان خوف زدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ نہ جانے کب کیا ہو جائے۔ ہر اِرتقاء اندیشے سے دو چار ہوتا ہے۔ ہر شے ایک بے نام اندیشے کے سائے میں لپٹی ہوئی نظرآتی ہے۔
جب اِنسان خدا سے دُور ہو جائے تو سکون اِنسان سے دُور کر دیا جاتا ہےاور اُس کی جگہ اندیشہ اور خوف مسلّط کر دیا جاتا ہے۔