اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر لیا جائے، اُس کے فضل سے مایوسی نہ ہونے دی جائے تو خوف نہیں رہتا۔
کوئی رات ایسی نہیں جو ختم نہ ہوئی ہو۔ کوئی غلطی ایسی نہیں جو معاف نہ کی جاسکے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس پر رحمت کے دروازے بند ہوں، رحم کرنے والے کا کام ہی یہی ہے کہ رحم کرے۔ رحم اُس فضل کو کہتے ہیں جو انسانوں پر اُن کی خامیوں کے باوجود کیا جائے — اور یہ رحم ہوتا ہی رہتا ہے۔ کسی کو خوف زدہ نہ کیا جائے تو خوف کا عذاب ٹل جاتا ہے۔ دُعا سے خوف دُور ہوتا ہے، اور دُعا کا حاصل اور اِس کا ماحاصل ہی یہی ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خوف سے نجات دلاتی ہے۔