جب زندگی اپنی افادیت، معنویت اور تقدیس کھو دے تو نتیجہ خوف کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے! انسان جب انسانیت ترک کر دے تو اسے خوف سے بچا نا مشکل ہے۔ خوف اور مسلسل خوف، بے وجہ اور بے معنی خوف ایک عذاب ہے۔ اِس کربِ مسلسل سے بچنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ انسان خوفِ خدا رکھے۔ انسان یہ نہ بھولے کہ اِس کا قیام عارضی ہے۔ اِسے ضرور اُسی راستے پر گامزن ہونا ہے جس پر اُس کے آباو اَجداد سفر کر گئے۔ خیال اور عمل کا فرق کم کرنے سے خوف کم ہو جاتا ہے۔ اپنے حاصل اور حق میں فرق مٹ جائے تو خوف مٹ جاتا ہے۔
خوف کسی غلطی، کسی غفلت، کسی گناہ اور کسی جُرم کی یاد ہی کا نام ہے۔ خوف خود کوئی شے نہیں۔ یہ صرف نشاندہی ہے، کسی نا روا عمل کی، کسی نامناسب رویے کا نتیجہ ہے۔
خوف زدہ انسان اوّل تو کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا اور اگر کر بھی لے تو غلط فیصلہ کر جاتا ہے۔ خوف اعصاب شکن بیماری ہے۔ اِس سے انسان کی تمام فکری صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں اور اُس کی شخصیت ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔
خوف کا پسندیدہ مسکن اُس انسان کا دل ہے جس میں احساسِ گناہ تو ہو لیکن گناہ چھوڑنے کی طاقت نہ ہو۔ خوف زدہ انسان کی ہر بازی مات، ہر جنگ شکست اور ہر کوشش ناکام ہوتی ہے۔ خوف خوراک سے طاقت اور نیند سے راحت چھین لیتا ہے۔ سب سے بد قسمت ہے وہ انسان جو اپنے مستقبل سے خائف ہو۔ جدا ہونے والے ہم راز اور اَدب نہ کرنے والی اولاد سے خوف آتا ہے۔
اگر خیال کی اصلاح ہو جائے تو خوف دُور ہو سکتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں پر توبہ کر لی جائے تو خوف دُور ہوجاتا ہے۔