ڈر اِنسان کے اِحساس کا ایک قوی حِصّہ ہے۔ ہر حسّاس آدمی خوفزدہ رہتا ہے۔ خوف کی وجہ معلوم ہو یا نا معلوم،خوف قائم رہتا ہے۔ خوف انسان کی سرِشت میں شامل ہے۔ اِس سے مَفر مشکل ہے۔
جب تک زندہ رہنے کی خواہش زندہ ہے،زندگی کے ختم ہو جانے کا ڈر ختم نہیں ہو سکتا۔ ڈر ایک سائے کی طرح اِنسان کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔
نئی خواہشیں نئے اندیشے پیدا کرتی ہیں اور نئے اندیشے نئی خواہشیں تخلیق کرتے ہیں۔ خواہش کے نہ پُورا ہونے کا ڈرہر خواہش کے باطن میں موجود رہتا ہے، اور ڈر کے باوجود اِنسان خواہش کو نہیں چھوڑتا۔
بے یقینی کی فضا اور غیر یقینی حالات نے اِنسان کو اندیشے عطا کیے ہیں۔ زندگی کا چراغ موت کی آندھیوں کی زد میں رہا ہے۔ موت سے زیادہ خوفناک شے موت کا ڈر ہے۔ یہ ڈر زندگی کو گھُن کی طرح کھائے چلا جا رہا ہے۔ اِنسان جب یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ہر چیز اُس سے چھن جائے گی اور وہ اَعِزاء و اَقرباء کو چھوڑ کر خالی ہاتھ کسی نامعلوم منزل کی طرف اکیلا روانہ کر دیا جائے گا،تو وہ خوفزدہ ہو جاتا ہے۔
موت کا عمل تو زندگی کے عمل کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بچپن،بچپن ہی میں مرجاتا ہے۔ جوانی ختم ہو جاتی ہے۔ بینائی کے چراغ مدّھم ہو جاتے ہیں۔ اِنسان کی آنکھوں کے سامنے محبوب اور مانوس چہرے رخصت ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ نقشے،جغرافیے اور تاریخیں بدل جاتی ہیں۔ آرزوئیں حسرتیں بن جاتی ہیں۔