اِسی فانی اور مختصر زِندگی میں لوگوں نے خوف سے آزاد رہ کر کارنامے سر انجام دیے، عظیم تخلیقات ہوئیں، تہذیبیں پیدا ہوئیں، عجائبات بنائے گئے، تمدّن پیدا ہوئے اور پُرانے کھنڈرات کے دامن میں نئی عمارتیں بنائی گئیں۔
زندگی صرف خوف زدہ رہنے کے لیے نہیں ملی۔ خوف ترقی سے محروم کر دیتا ہے اور خوف زدہ اِنسان اپنے اندر ہی ریت کی دیوار کی طرح گر جاتا ہے، اور یوں زندگی ہی میں مر جاتا ہے۔ عظیم اِنسان موت کی وادی سے باوقار ہو کر گزرتے ہیں۔
دراصل کچھ مزاج ہی ایسے ہوتے ہیں جو ہر حال میں ڈرتے ہیں۔ عبادت کریں تو اُس کے نا منظور ہونے کا اُنہیں ڈر رہتا ہے۔ وہ سفر کریں تو حادثات کا خطرہ اُن کے دِل کی دھڑکنیں تیز رکھتا ہے۔ دُھوپ ہو تو اُنہیں دُھوپ سے ڈر لگتا ہے، بارش ہو تو بارش سے۔ وہ بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتے ہیں۔ وہ کسی نا گہانی آفت کی گرفت کے اِمکان سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ اُن کے قلوب کی سر زمین میں ہمہ وقت زلزلے آتے رہتے ہیں۔ وہ ہر وابستگی سے ڈرتے ہیں۔ وہ قربتوں سے بھی ڈرتے ہیں اور فاصلوں سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔ اُن کے لیے ہر مشاہدہ خوف پیدا کرتا ہے۔ اندیشوں کی آکاس بیل اُن کی زِندگی کے شجر کو لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اُن کی ہستی اُس ٹوٹے ہوئے جہاز کی طرح ہوتی ہے،جسے کوئی ہوا بھی راس نہیں آتی۔
بُزدل اِنسان کو کوئی حالت خوف سے آزاد نہیں ہونے دیتی۔ کوئی نہ کوئی خطرہ اُس کے وجود میں موجود رہتا ہے۔ اُسے دَریا میں ڈوب جانے کا ڈر رہتا ہے، صحرا میں پیاس سے مر جانے کا ڈر رہتا ہے۔ اُسے دُنیا کا ڈر رہتا ہے، عقبیٰ کا ڈر رہتا ہے۔ وہ شاید یہ نہیں جانتا کہ اللہ کی رحمت اُس کے غضب سے وسیع تر ہے۔ یہ زندگی اندیشوں کے لیے نہیں پیدا کی گئی۔ یہ زندگی اُس کی رحمت اور اُس کے فضل کے حصول کے لیے دی گئی ہے۔ راتیں ہمیشہ تاریک نہیں ہوتیں اور کوئی تاریک رات ایسی نہیں جو دِن کے اُجالے میں ختم نہ ہو۔ سورج ضرور طلوع ہوتا ہے — کامرانیوں کا،سرفرازیوں کا۔ اعتماد اور یقین حاصل ہو جائے تو اندیشے ختم ہو جاتے ہیں۔ اعتماد محبّت سے حاصل ہوتا ہے،خدمت سے حاصل ہوتا ہے، عبادت سے حاصل ہوتا ہے۔
جس زندگی میں شوق ہو گا،اُس میں خوف نہیں ہو گا۔ خوف دوزخ ہے،شوق جنت۔ مفادات کو مُقدّم سمجھنے والے مقامِ شوق نہیں سمجھ سکتے۔ شوق کا تعلق دِل سے ہے،مفادات کا واسطہ دماغ سے ہے۔ دِل قربانیاں پیش کرتا ہے،عقل حاصل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ قربانیاں پیش کرنے والے کو کوئی ڈر نہیں ہوتا اور حاصل کی تمنّا کرنے والا محرومی کے اندیشوں سے نہیں نکل سکتا۔