جو اِنسان دوسروں کو خوف زدہ کرتا ہے،وہ خود خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ جو طاقت خوف پیدا کرتی ہے،وہ خود خوف زدہ رہتی ہے۔ طاقت ور کو کمزور ہونے کا خوف کھا جاتا ہے۔ طاقت کا اِستعمال خوف کے ساتھ نفرت بھی پیدا کرتا ہے۔ کمزور اِنسان کی نفرت ہی طاقت ور کے لیے خوف ہے۔ یہ خوف طاقت کی موت ہے۔
کوئی دنیاوی طاقت ہمیشہ کے لیے طاقت ور نہیں رہ سکتی۔ فرعون کو موسٰی ؑ کی پیدائش سے پہلے ہی خوف لاحق ہو گیا تھا۔ فرعون کی دولت، اُس کا دَبدبہ، اُس کی حکومت اور اُس کے لشکر اُسے ایک بچّے کے خوف سے نہ بچا سکے۔ ایک اِنسان کے خوف نے ایک بادشاہ کو چَین سے بیٹھنے نہ دیا اور آخر کار طاقت غرقِ دریا ہو گئی۔ اِقتدار اور اِختیارکا بے قرار رہنا فطری بات ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے ماضی کی یاد خوف پیدا کرتی ہے۔ کچھ لوگ مستقبل کے اندیشوں سے دوچار ہیں۔ خوف موجود لمحے کا تو ہوتا ہی نہیں۔ خوف صرف جانے والے یا آنے والے وقت کا ہوتا ہے۔ گُزرے ہُوئے زمانے کا خوف دراصل آنے والے زمانے کا خوف ہے۔ ماضی صرف اُسی وقت خوفزدہ کرتا ہے ،جب اُس کا ناخوشگوار نتیجہ ابھی باقی ہو۔
اُس کی رحمت پر نگاہ رکھی جائے تو خوف ختم ہو جاتا ہے۔ خوف آخر مفروضہ ہی تو ہے۔ وہ اَلمیہ جو ابھی رُونما نہیں ہُوا اور رُونما ہو سکتا ہے ،اندیشہ کہلاتا ہے۔ اِنسان اگرمستقبل کو آئینۂ تخیل میں اُتارنے کی بجائے حال کے فرض کا قرض ادا کرے تو خوف سے بچ جاتا ہے۔ مستقبل صرف خواب ہی تو ہے— خوفناک ہو یا حسین،محتاجِ تعبیر ہے، اور ماضی کتنا ہی بھیانک ہو، ایک تصویر ہی تو ہے— بے جان تصویر۔ حال اور صرف حال حقیقت ہے۔ حال زندگی ہے— عمل ہے— خوف سے آزاد۔جو ہوا،سو ہو چکا۔ جو ہونا ہے،سو ہو جائے گا۔
صرف خوف کسی خطرے کو ٹال نہیں سکتا۔ صرف خوفزدہ رہنے سے تو دُشمن نہیں مرتے۔ عمل کی ضرورت ہے، اور عمل کے لیے خوف سے نجات ضروری ہے۔