موت صرف سانس یا آنکھ کے بند ہو جانے کا نام نہیں۔ ہر آرزو کی موت،موت ہے، بلکہ عزیزوں کی موت اپنی موت ہے۔ وابستگی اور تعلق کی موت اپنی موت ہے۔ مقصد مر جائے تو اِنسان مر جاتا ہے۔ بے مقصد زندگی چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو،موت سے بدتر ہے۔ بے مقصد انسان بے خوف نہیں ہو سکتا۔ با مقصد اور بامعنی زندگی موت کے ڈر سے بے نیاز ہوتی ہے۔
موت کے ڈر کے علاوہ آج کی زندگی کو اور بھی کئی خطرات کا ڈر رہتا ہے۔ ہم اپنے اعمال کی عبرت سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں اُس دن سے خوف آتا ہے،جب راز فاش ہوں گے اور بداعمالیاں چہروں پرلکھی جائیں گی،جب مجرم کی زبان خاموش کر دی جائے گی اور مستند گواہیاں اُس کے خلاف رطب ُ الِلّسان ہوں گی۔ وہ دِن کسی دِن بھی آسکتا ہے۔ اِس خوف سے نجات کا راستہ صرف اور صرف توبہ ہے۔
دولت کی محبّت غریبی کا ڈر پیدا کرتی ہے۔ اِنسان اِسی لیے تو دولت جمع کرتا ہے کہ غریبی سے نجات ملے۔ وہ جتنا مال جمع کرتا ہے،اُس سے زیادہ کی خواہش رہتی ہے۔ اِس طرح دولت لوبھ پیدا کرتی ہے اور یہ لوبھ خوف پیدا کرتا ہے۔ لالچ نہ نکلے تو خوف نہیں نکل سکتا۔
”لاخوف“،”لاتَخَفْ“ اور”لایَحْزَنُون“ کی منزلیں طے کرنے والے مال کی محبّت سے آزاد ہوتے ہیں۔ دولت کی تمنّا کے لیے خوف کا عذاب لکھ دیا گیا ہے۔
ہم اپنے آپ کو جتنا محفوظ کرتے ہیں،اُتنا ہی غیرمحفوظ ہونے کا ڈر ہمیں دبوچ لیتا ہے۔ سیکورٹی کی تمنّا ، خوف کا دوسرا نام ہے۔