موسیٰ علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ آگ کی تلاش اُن کے لیے کون سا مقدّر لانے والی ہے۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارا انتخاب ہمارے لیے کیا دُشواریاں اور کیا آسانیاں لائے گا۔ ایک غلط فیصلہ زندگی کو بہشت سے نکال کر دوزخ میں ڈال دیتا ہے اور اِسی طرح ایک قدم، خوش بختی کا قدم، دوزخ سے نکال کر ہمیں بہشت میں پہنچا سکتا ہے۔
اِس کائنات میں ایسے ہوتا ہی رہتا ہے۔ معمولی واقعات، بہت معمولی واقعات بڑے غیر معمولی نتائج کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ تقدیر صرف میرا عمل ہی نہیں۔ تقدیر میرے دوست کا عمل بھی ہے۔ دوست ناراض ہو جائے تو میری تقدیر بگڑ سکتی ہے، حالانکہ میری تقدیر کا مَیں ہی مالک ہُوں۔ ہماری آدھی تقدیر ہمارے اعمال میں ہے اور آدھی اُن کے اعمال میں، جو ہم سے وابستہ ہیں۔
اِنسان اپنی تقدیر آپ بنائے یا اُسے بنی بنائی تقدیر مِل جائے، فرق نہیں پڑتا۔ ہم ایک مقررہ مدت تک یہاں ہیں اور اِس کے بعد ہمارا سفر ختم ہو جائے گا۔ اِس کے بعد ہمارے ”فیصلے“ ہمارے اعمال یا ہمارے نتائج پر نہیں، بلکہ ہماری نیّات پر ہوں گے۔ اچھی نیّت ہی اچھا مقدّر ہے۔ اُس شخص کی تقدیر بِگڑ جاتی ہے، جس کی نیّت میں فتور ہو۔ نیّت کا بُرا اِنسان مقدّر کا بُرا ہوتا ہے۔
تقدیر کا تعلق منشائے الٰہی سے ہے اور تدبیر کا تعلق میری منشاسے ہے۔ جو کچھ اللہ نے میرے لیے مقرر کر رکھا ہے، وہ مجھے مل کر رہے گا۔ میری سعی، میری کوشش، بغیر منشائے الٰہی کے مجھے کچھ نہیں دے سکتی۔ میں تقدیر کے حصار سے نہیں نکل سکتا، کیونکہ مَیں وجود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ مَیں آسمانو ں کی وسعتوں میں نہیں رہ سکتا۔ میرا ٹھکانہ زمین ہے۔ یہی میرا مقدّر ہے۔
مَیں گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے کسی بھی ذریعۂ سفر کا انتخاب کر سکتا ہوں۔ بڑے اِمکانات ہیں۔ سفر کے لیے بڑے ذرائع ہیں، لیکن جب مَیں گاڑی میں سوار ہو جاتا ہوں تو یہ مقدّر ہے۔ مَیں اپنے لیے اِمکانات کے دستر خوان سے تقدیر کی ڈِش منتخب کرتا ہوں۔ مجھے اپنے انتخاب پر گلہ نہیں، اِس لیے مَیں تقدیر سے راضی ہوں۔ وہ اِنسان جو اپنی زندگی سے مطمئن ہے، وہ ہر طرح کی تقدیر سے مطمئن ہے۔ جو خود اپنے سے راضی نہیں، وہ تقدیر سے کیوں راضی ہو گا — ؟