دُنیا کے عظیم اِنسان صاحبِ مقدّر تھے،  صاحبانِ نصیب تھے۔ اُن کا عمل تو واضح ہے۔ ایسا عمل کرنے سے تو اتنی عظمت پیدا نہیں ہو سکتی۔ پیغمبر ص کے دِین پر چلنے والے ضرور فلا ح پا سکتے ہیں،  لیکن پیغمبروں کا مقدّر دیکھیں کہ کس کے گھر میں پیدا ہو کر کیا بن گئے۔

اِس کائنات کے اندر تقدیر نے عجب تقسیم کی ہے۔  کہیں نغمہ ہے،  کہیں رنگ،  کہیں مور،  کہیں کوّا۔  پہاڑ کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔  دریا کو روانی ملی۔ مچھلی تیرتی ہے۔ پرندے اُڑتے ہیں۔  سورج روشن ہے،  رات تاریک۔ زندگی فانی ہے،  زندگی عطا کرنے والا باقی ہے۔  اِسی مقدّر کی دلآویزیوں میں ہم نے چندروزہ زندگی صَرف کرنی ہے۔  اپنے لُطف میں سفر کریں۔  میرا مقدّر میرے مالک نے میرے لیے بہتر مقرر فرمایا ہے۔ کوئی جھگڑے کی بات نہیں،  میری تقدیر کی لکیر میرے ہاتھ میں بھی ہے اور اُس کے ہاتھ میں بھی جس سے میرا تعلق ہے۔  جہاز میری تدبیر ہے،   بھنور یا کنارا، میری تقدیر!

مکان بنانا میری تدبیر ہے۔ اِس میں سکون مِلتا ہے یا اضطراب،  میرا مقدّر ہے۔  اگر اِنسان پیدائش میں اور موت میں آزاد نہیں تو اُس کی زندگی کیسے آزاد ہو۔ جس کو اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو،  اُسے کسی خوش فہمی پر کیسے اعتماد ہو گا۔  جو اِنسان اپنے قد سے باہر نہیں نِکل سکتا،  وہ تقدیر کی حد سے کیسے باہرنکل سکتا ہے۔

بہرحال تقدیر ماننے والوں کے لیے ایک نعمت ہے،  نہ ماننے والوں کے لیے یہ آزمائش ہے۔ اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ماضی میرا مقدّر ہے،  حال فیصلے کا لمحہ ہے،  مستقبل اِمکانات کا خزانہ ہے، تو فیصلے سے پہلے ہر راستہ منزل کا راستہ ہو سکتا ہے،  لیکن فیصلے کے بعد مسافر کے لیے منزل تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک ہی راستہ ہے —  اور وہی مقدّر ہے۔

مقدّر بدل نہیں سکتا۔ ہمارے پروگرام بدل سکتے ہیں لیکن اَمرِاِلٰہی ٹل نہیں سکتا۔ بڑے بڑے کامیاب اِنسانوں کو اُن کی اولادنے ایسی ناکامیاں عطا کی ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔  اولاد کا عمل بھی والدین کے اعمال کی طرح اِنسان کی زندگی پر اثر انداز ہو کر اُسے ایک مقدّر کے حوالے کر دیتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6