جس طرح آسمان کی بسیط وسعتوں اور عمیق پہنائیوں میں کروڑوں ستارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، جمیل و جسیم ستارے اور سیّارے حسنِ کائنات کے انوکھے پُرتاثیر مظاہر ہیں، اِسی طرح حیاتِ ارضی میں کروڑوں چہرے اپنے اپنے خیال اور اپنی اپنی ضرورت کے مدار میں سرگرمِ عمل ہیں، مصروفِ عمل ہیں، مصروفِ سفر ہیں۔ پُر تاثیر مؤثر چہرے حسنِ زندگی کی تفسیرِمقدّس کے مظاہر ہیں۔

چہرہ اور پھر انسان کا چہرہ، اللہ اللہ! ایک عجیب داستان ہے، ایک پُر کیف مشاہدہ ہے،  ایک مؤثر حقیقت ہے،  ایک عظیم شاہکار ہے۔ احسنِ تقویم کی شرحِ دلپذیر ہے۔ احسن الخالقین کاحُسنِ تخلیق، انسانی چہرے سے عیاں ہے۔

چہروں کا مشاہدہ، اُن کا مطالعہ،   کتابوں کے مطالعہ سے کہیں زیادہ دانائی اور حکمت عطا کرتا ہے۔  زندگی کی کھلی کتاب میں ہر چہرہ ایک الگ باب ہے، ایک الگ انداز، ایک الگ تاثیر،  ایک الگ مدار،  ایک الگ عنوان ہے۔ خیر و شر کی تقسیم چہروں کے دم سے ہے۔ حکم ہے باری تعالیٰ کاکہ مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے،  اور پیشانیوں پر داغِ سجود منوّر کرے گا، چہروں کو۔

جب ہم چہروں کی تلاوت و تسبیح شروع کرتے ہیں تو ہمیں عجیب و غریب مکاشفات حاصل ہوتے ہیں۔ چہرہ گویائی نہ بھی رکھتا ہو، تب بھی پُر کشش اور پُر تاثیر ہے۔

انسان کو اگر دنیا میں کسی شے سے محبّت ہوتی ہے تو وہ انسانی چہرہ ہی ہے۔ بچہ اَیّامِ طفلی ہی میں ماں کے چہرے کو مظہرِ ربوبیّت اور مظہرِ محبّت سمجھتا ہے۔ ماں کا چہرہ،  ماں کی نگاہیں، ماں کی مسکراہٹیں بچے کے لیے اس اجنبی دیس میں اُنسیّت، مانوسیّت اور اپنائیت کا واحد ذریعہ ہے۔ ماں نہ ہو تو بچہ ہجوم میں بھی تنہائی محسوس کرتا ہے۔ ماں کا مقدّس چہرہ بچے کے لیے کُل کائنات ہے۔ محبّت کی عظیم داستانیں چہروں کی تاثیر کی داستانیں ہیں۔ چہرہ ہی جنّت ِ نگاہ ہے۔ انسان کی آنکھ جس منظر پر کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے، وہ چہرہ ہی ہے، صرف چہرہ، عقائد و نظریات سے بے نیاز۔

Pages: 1 2 3 4 5 6