آنکھ سے گزرنے والا ہر جلوہ بیان میں نہیں آسکتا۔ جب آنکھ محوِ نظارہ ہوتو بیان ممکن ہی نہیں ہوتا اور جب نظارہ رخصت ہو جائے تو صحت ِبیان مشکوک سی ہو جاتی ہے،اور بیان اپنی صداقت کے باوجود یقین اور بداعتمادی کے ملے جلے جذبات پیدا کرتا ہے۔ ویسے بھی دیکھے ہوئے اور سُنے ہوئے منظر میں فرق رہتا ہے۔
آنکھ اگر آنے والے دَور کو دیکھے تو اُس کا بیان سامعین کے لیے اُلجھاؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔ آنے والے زمانے کو کس نے دیکھا؟ سچ ہے۔ آنے والا توغائب ہے اور غائب اگر نظر میں ہو، تب بھی محلّ ِ نظر ہے۔
آنے والے ایّام آخر جانے والے ایّام سے ہی تو جنم لیتے ہیں۔ اگر حال کو غور سے دیکھا جائے تو اِستقبال کو قبل اَزوقت دیکھا جاسکتا ہے۔
اگر کوئی بوڑھا شخص بیمار رہنے لگ جائے تو مستقبل اِتنا غائب بھی نہیں رہتا کہ اُسے دیکھا نہ جا سکے۔
اگر خرچ آمدن سے بڑھتا جائے تو مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔
اگر جوانوں میں ہیروئن کا شوق اور عادت پیدا ہو جائے تو قوم کامستقبل صاف ظاہر ہے۔
اگرطالبِ علم،علم کا طالب نہ رہے تو نتیجہ واضح ہے۔
اگر قافلہ کسی کو سالار ہی نہ مانے تو سفر گمراہی کی دلیل ہے۔ قافلے کی منزل وقت سے پہلے عیاں ہے۔
اگر میاں بیوی کے درمیان اَنا کے مقابلے اور مناظرے شروع ہو جائیں تو اُس گھر اور گھر کے افراد کا حشرغائب کا علم نہیں کہلاتا۔
اگر خوراک میں ملاوٹ شروع ہو جائے تو صحت کے بارے میں سیمینار منعقد کرنا بے کار ہے۔ صحت کا علم وقت سے پہلے معلوم ہو سکتا ہے۔
اگر رشوت لینے والے محفوظ مرتبوں پر فائز ہوں تو مستقبل — کیسا مستقبل!