کیا ہم غور کرنے کی تکلیف گوارا کر سکتے ہیں؟

کیا ہم ماضی سے سبق حاصل کر سکتے ہیں؟

کیا ہم دوسرے مسلمان ممالک سے سبق حاصل کر سکتے ہیں؟

کیا ہم ایک دوسرے کو معاف کر سکتے ہیں؟

کیا ہم ایک دوسرے سے معافی مانگ سکتے ہیں؟

کیا ہم حق بات کہنے کی جرأت کر سکتے ہیں؟

کیا مشائخِ کرام واقعی متحد ہو سکتے ہیں؟

کیا علماء ایک مسلک پر متفق ہو سکتے ہیں؟

کیا سیاست دان سچ اور صرف سچ بول سکتے ہیں؟

کیا طاقت خوف کے بجائے محبّت پیدا کر سکتی ہے؟

کیا آج کے بچوں کو آنے والے زمانوں کے خوشگوار ہونے کی گارنٹی دی جا سکتی ہے؟

کیا آئندہ کسی ٹوٹ پھوٹ کے نہ ہونے کا یقین ہو سکتا ہے؟

کیا ہم پُرانے زخموں کے لیے مرہم تیار کر رہے ہیں یا کسی نئے زخم کا انتظار کر رہے ہیں؟

اِس سے پہلے کہ ہم پر رحمت اور توبہ کے دروازے بند ہوں،کیا ہم اپنی فکر اور زندگی کو بدل سکتے ہیں؟

کیا ہم دُشمن کی چال سے بے خبر ہیں—؟دُشمن کی اصل قوّت دوستوں کی جدائی میں ہے۔

کیا ہم اتنا اِسلام بھی نہیں رکھتے ،جتنا قائداعظمؒ کے پاس تھا؟ اُس صاحبِ ایمان کے پاس صرف صداقت تھی، جذبہ تھا، دیانت تھی، خلوص تھا۔ بس یہی کچھ تو تھا۔ اُنہوں نے نہ کسی سے کلمہ سنا، نہ کسی کو قرآن سنایا۔ اُنہو ں نے صِرف مسلمانوں کے لیے،اُن کی فلاح کے لیے،اُن کی اپنی حکومت کے لیے ،ایک مملکت بنا کر دِکھا دی— اعجاز ہے —اور ہم اِس مملکت میں کیا کیا کر چکے ہیں—کیا کیا کر رہے ہیں۔ ہم یقینا جواب دہ ہیں،شہدائے وطن کے سامنے،شہدائے ملّت کے سامنے،خدا کے سامنے اور پھر حضورؐ کے سامنے! بات علم کی نہیں،عمل کی ہے—خالص عمل،اِسلامی عمل،صداقت و دیانت کا عمل،رحمت و محبّت کا عمل۔ ہم سب ایک کشتی میں سوار ہیں،ایک اُمّت ہیں،بحث کی ضرورت نہیں—غور کا مقام ہے —دُعا کی گھڑی ہے —کہ خدا کرے وہ واقعہ ہی ٹل جائے —جس کا ذِکر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ واقعہ ہی ایسا ہے کہ لب پہ آسکتا نہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5 6