ہر دَور میں جاننے والوں نے نہ جاننے والوں کو اپنے علم سے متعارف کرایا ہے۔ سُننے والوں کو یقین آئے نہ آئے،یہ الگ بات ہے۔ فی الحال اِس سے بحث نہیں۔ یقین اگر اہلِ نظر کی بات کی تصدیق سے پہلے آئے تو بہتر،ورنہ بے کار۔ اگر حادثہ گزر جائے تو یقین کا فائدہ ہی کیا؟ مثلاً اگر کوئی بتانے والا یہ بتائے کہ سانپ آرہا ہے تو اِس سے پہلے کہ بتانے والے کی تحقیق کی جائے،بہتر یہی ہے کہ سانپ کا تدارک کر لیا جائے۔ پھر دیکھا جائے کہ خبر صحیح تھی یا غلط— دونوں حالتوں میں ہم محفوظ رہتے ہیں!
اگر ہم مسلمانانِ پاکستان اپنی حالت کا مسلمانانِ عالم کے پس منظر میں جائزہ لیں تو بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ آئیے غور کریں کہ دُنیا کے مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے۔
ہندوستان کے مسلمان کس حال میں ہیں؟ وطن میں غریب الوطن!
ایران کس حال سے گزر گیا؟ عراق کس حال میں ہے اور ہمارا پڑوسی مسلمان افغانستان کس صورتِ حال سے دوچار ہے؟ لبنان،فلسطینی مسلمان،افریقہ کے مسلمان،سب پر کیا مسلط ہے؟
ہمیں اپنی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہم ایک خطّۂ امن بنے ہوئے ہیں— ہم گوشۂ عافیت میں ہیں— سوال یہ ہے کہ کیوں اور کب تک؟
ہم میں کیا خصوصیت ہے؟ کیا ہم بہت ہی لاڈلے ہیں؟ ہماری حالت باقی مسلمانوں کی حالت سے مختلف کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری باری آنے والی ہو اور ہم بے خبر اپنے حال میں مگن ہوں— بس یہی ہے وہ خبر،جسے نظر کہا جاسکتا ہے!!
اب ہمارا عمل بدلنا چاہیے،ورنہ ہم بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی نذر ہو سکتے ہیں۔دُنیا میں زلزلے آرہے ہیں اور ہم بھی دنیا میں رہتے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو،لیکن ایسے ہو تو سکتا ہے۔خدانخواستہ کسی ڈیم کو کوئی حادثہ پیش آجائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں — خدا نہ کرے ایسا ہو— لیکن ایسے ہو تو سکتا ہے۔