خدا نہ کرے کہ کوئی جنگ ہو۔ لیکن ہر روز کی خبریں،بار بار جنگ کے اِمکانات کا ذِکر— جھوٹ ہو،اللہ کرے — لیکن اگر سچ ہو تو؟ اندرونی خلفشار طاقت نے دبا رکھا ہے۔ اگر خدا نہ کرے کوئی لاوا اُبل پڑے— تو— کیا ہو گا؟

 ہماری سرحدوں کی حالت تشویشناک نہیں،لیکن تسلّی بخش بھی تو نہیں۔ ایسی حالت میں  کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو لیکن ہو تو سکتا ہے!

اِسلام کے حوالے سے افغانستان ہم سے کم مسلمان نہیں اور طاقت کے لحاظ سے ہم کسی دشمن سے زیادہ نہیں۔ نتیجہ کچھ بھی تو ہو سکتا ہے!

آنے والا زمانہ جانے والے زمانے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ غور کیا جائے — اگر ہمارے ساتھ خدانخواستہ کوئی ایسا ویسا واقعہ یا حادثہ ہو گیا،تو ہمارے لیے جائے مَفر نہیں۔ ہم ہر طرف سے محصور ہیں۔

ہمیں اپنے دامن میں کوئی ایسا کام بھی تو نظر نہیں آتا  جس سے ہم کسی ناگہانی سے محفوظ رہنے کا حق حاصل کریں۔ ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے اور اللہ سب مسلمانوں کا بھی تو اللہ ہے۔ اب مستقبل کا دار و مدار صرف اخوّت پر ہی ہو سکتا ہے اور شومئی قسمت کہ ہم میں اخوّت ہی تو نہیں۔

ہمیں صرف گفتگو،لائحہِ عمل،صرف بیانات سے آگے نکلنا چاہیے۔ ہمیں علم سے نکل کر عمل کے میدان میں اُترنا چاہیے۔ وحدتِ عمل، وحدتِ کردار— یہی اور صرف یہی ہمارے لیے راہ ِنجات ہے۔

 شاعرِملت ِ اسلامیہ اقباؔل نے جب یہ کہا کہ

ع              وطن کی فکر کرناداں مصیبت آنے والی ہے

تو اِس کا مخاطب کوئی بھی زمانہ ہو سکتا ہے،اور ہو سکتا ہے کہ ہمارا ہی زمانہ ہو۔ اہل ِ نظر شاعر کی نگاہ سے زمان و مکاں کے حجابات اُٹھ چکے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے کسی بھی زمانے کو کوئی سا پیغام دے سکتا ہے۔ اقباؔل دیکھ رہا تھا،آنے والوں کو — جانے والوں کو— اقباؔل کی زبان سے بولنے والی کوئی بھی ذات ہو سکتی ہے۔ اقباؔل خود کہتا ہے:

ع             نکلی تو لب ِاقباؔل سے ہے،  کیا جانیے  کس کی ہے یہ صدا

تو—غور کا مقام ہے —بڑے غور کا مقام ہے۔

ہمارے اندیشے اتنے بے سبب بھی نہیں۔ آنے والا دَور اِتنا خوشگوار بھی نہیں کہ ہم غفلت میں ہی اُس کا اِنتظار کریں۔  ہو سکتا ہے—اور بہت کچھ ہو سکتا ہے!!!

اگر اینٹوں میں وحدت نہ رہے تو دیوار اپنے بوجھ سے گِر بھی سکتی ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6