تقریریں،مذہبی اور سیاسی ،صرف تقریریں،صرف خطابات،بیانات اور صرف الفاظ سے قوم کی تاریخ مستحکم نہیں ہُواکرتی۔ قومیں عمل ِپیہم سے بنتی ہیں۔ہماراقومی عمل کیا ہے؟ ہم جس درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں،جس کا پھل کھا رہے ہیں،اُسی درخت کی قدر نہیں کرتے۔ اُس کی حفاظت کے لیے متحد نہیں ہوتے۔ ہم کیا کرتے ہیں؟
اگر سورج کی کرنیں سورج ہی کو چاٹ لیں تو کیا ہو گا؟ اگر الفاظ کی بے معنی کثرت الفاظ کی حُرمت ختم کر دے تو کیا ہو گا؟ اگر مساجد کی تعداد بڑھ جائے اور نمازیوں کی تعداد کم ہو جائے تو کیا ہو گا؟
اگر قوم میں قوّتِ بازو بھی نہ ہو اور قوّتِ ایمان بھی نہ ہو تو کیا ہو گا؟
اگر آدھا راستہ طے کرنے کے بعد مسافر بددل ہو جائیں تو کیا ہو گا؟—آگے جانے کا عزم نہ رہے اور پیچھے کو لوٹنا ممکن نہ ہو تو کیا ہو گا؟
اگر زمین پر گناہوں کا بوجھ بڑھ جائے،اگر مکان اپنے مکینوں سے نالاں ہوں —اگر اِنسانوں کا اپنا باطن اُن کے اپنے ظاہر سے پریشان ہو—توکیا ہو گا؟
اگر ہمیں یہود سے توقع ہو کہ وہ ہنود کے مقابلے میں ہمیں ترجیح دیں گے،تو کیا ہو گا؟
اگر شاعر،ادیب،دانشور،نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی نہ کر سکیں تو ملکی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا؟
اگر ہم آپس میں مہربان نہ ہوں تو دُشمن کے مقابلے میں متحد کیسے ہوں گے؟
اگر بِلّی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر لے—تو کیا ہو گا؟ اگر سچّے دِین کی تبلیغ کرنے والے خود سچّے نہ ہوں تو تبلیغ کی تاثیر کیا ہو گی؟
اگر غلاموں کے ساتھ بہتر سلوک کا ذکر کرنے والے اپنے نوکروں کے ساتھ بدسلوکی کریں —تو نتیجہ کیا ہو گا؟
اگر غفلت، خوش فہمی اور خوش اعتمادی کی وجہ سے ایک دفعہ ملک ٹُوٹ چکا ہو اور قوم کے مزاج اور عمل میں فرق نہ آیا ہو—تو غور کا مقام ہے۔
اگر—اور یہ بہت بڑا ”اگر“ ہے —کہ اگر دِین خوشنودیٔ رسولؐ اور خوشنودیٔ خدا کا نام ہو،اور خدا اور مصطفیٰؐ ہم پر راضی نہ ہوں—تو—ہم کِدھر جائیں گے؟
اب اِس مقام پر کسی پیش گوئی اور کسی بحث کے تکلف کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ اِبتلا کا وقت ہے۔