اگر چوکیدار ہی چوری کرنے لگ جائیں،اگر باڑ ہی کھیت کو کھانے لگ جائے،اگر ایمپائر ہی غیر جانبدار نہ رہیں تو مستقبل عیاں ہوتا ہے۔

اگر کسی کو کسی پر اعتماد نہ ہو،اگر کوئی کسی کے لیے بے ضرر نہ ہو،اگر ہر شخص کو ہر دوسرے شخص پر،اُس کی نیّت پر شبہ ہو،اگر اِنسان اپنے آپ سے بیزار ہو،اگر الفاظ اپنے معنی سے جدا ہو جائیں تو مستقبل کے بارے میں جاننا غیب کی بات نہیں،ظاہر کا علم ہے۔اگر سیاست اختلاف برائے اختلاف پر مبنی ہو تو سیاسی استحکام کا مستقبل آشکار سا ہو جاتا ہے۔ یہ سب باتیں اور اِسی طرح کی کئی باتیں،ظاہر ہے ہر ذی شعور کے لیے اپنے اندر آنے والے زمانوں کی خبر رکھتی ہیں۔

 کبھی کبھی حالات ِحاضرہ کے مشاہدے کے بغیر بھی مستقبل اپنے آنے کی قبل اَز وقت اطلاع دیتا ہے۔ اِقباؔل نے اگر کہا  ہےکہ”محو ِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی“ تو   اِس خبر کا تعلق حال سے قطعاً نہیں ،یہ الگ اِطلاع ہے۔ اِس کا تعلق نظر سے ہے۔

 مقامِ خبر اور مقامِ نظر کا فرق تو صرف اہل ِ باطن ہی معلوم کر سکتے ہیں۔ اہل ِ باطن کی نظر میں اپنے زمانے کے علاوہ بھی زمانے ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وجوہات اور نتائج کے رِشتے اِنسانی رِشتوں کی طرح ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ بعض اوقات وجہ کچھ اور ہوتی ہے اور نتیجہ کچھ اور!

بےسبب نتائج کی خبر ہی نظر کہلاتی ہے۔ صاحبِ نظر نقیب ِ فطرت ہوتا ہے۔ فطرت اُسے جو کچھ دکھاتی ہے،وہ اُسے بیان کرتا ہے۔ وہ صاف صاف بیان کرتا ہے، لیکن سُننے والے سمجھ نہیں سکتے۔ سامعین حیران ہوتے ہیں کہ اُس نے کون سا اخبار پڑھ لیا ہے۔ یہ شخص بہک تو نہیں گیا،لیکن نہیں۔ وہ بہکتا نہیں۔ فطرت بہکنے والوں کے ذریعہ سے کوئی پیغام نہیں بھیجتی۔ یوں بھی جاننے والوں اور نہ جاننے والوں میں فرق رہتا ہے،اُسی طرح جس طرح جاگنے والوں اور سونے والوں میں فرق ہے۔

Pages: 1 2 3 4 5 6